رسائی کے لنکس

logo-print

نیپال: کھٹمنڈو میں خواتین کے لیے علیحدہ بسیں متعارف


وزارت ٹرانسپورٹ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پبلک بسوں میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو نے صرف خواتین کے لیے مخصوص بسیں متعارف کرائی ہیں جس کا مقصد شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام ہے۔

ابتدائی منصوبے کے تحت 17 نشستوں پر مشتمل چار بسیں شروع کی گئی ہیں جن پر جلی حروف میں 'صرف خواتین کے لیے' لکھا ہے۔ یہ منی بسیں شہر کے معروف راستوں پر صبح اور شام کے مصروف ترین اوقات میں سفر کریں گی۔

وزارت ٹرانسپورٹ کے ایک عہدیدار تلسی پرساد سیتولا نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ یہ اقدام پبلک بسوں میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔

نیپال میں خواتین پر جنسی حملوں کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہیں لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد - بشمول عصمت دری، گھریلو تشدد اور ریپ - جیسے میں اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 2014 میں 6,800اس نوعیت کے جرائم کے واقعات درج ہوئے جبکہ 2013ء میں ایسے کیسز کی تعداد 1,800 تھی۔

نیپالی حکام کے مطابق خواتین کی بسوں میں ابتدائی طور پر تمام ڈرائیور مرد ہیں لیکن وہ مزید خواتین عملہ بھرتی کرنا چاہتے ہیں۔

بس آپریٹرز کا کہنا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ ان بسوں میں خواتین ڈرائیوروں اورکنڈیکٹروں کو روزگار دینا چاہتے ہیں لیکن ان کی تلاش کا کام مشکل ہے۔

نیپال کی 'قومی ٹرانسپورٹ فیڈریشن' سے تعلق رکھنے والے دھرما راج ریمل جو کہ اس منصوبے کے روحِ رواں ہیں، کہتے ہیں کہ اگر بسوں کی مانگ بڑھتی ہے اور سروس مقبول ہو جاتی ہے تو ان کا ارادہ ہے کہ شہر کے دیگر راستوں پر بھی ایسی بسیں چلائی جائیں اور ان کے اوقات کار میں اضافہ کیا جائے۔

کھٹمنڈو میں خواتین مسافروں کی جانب سے اس اقدام کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

2013سنہ میں ورلڈ بنک کی ایک سروے رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ کھٹمنڈو میں 26فیصد خواتین جن کی عمریں 19 سے 35سال کے درمیان تھیں انھیں شہر کی پبلک ٹرانسپورٹ میں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

نیپال میں 2011ء میں ایک 21 سالہ لڑکی کو بس میں زیادتی کا نشانہ بنانے کا ایک واقعہ بھی پیش آیا تھا جس میں بس ڈرائیور بھی ملوث تھا۔

XS
SM
MD
LG