رسائی کے لنکس

واشنگٹن مارچ کے ساتھ یک جہتی، دنیا بھر میں خواتین کے مظاہرے


بھارتی شہر احمد آباد میں واشنگٹن کی خواتین سے یک جہیتی کے اظہار میں مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

واشنگٹن میں احتجاجی مظاہروں کی طرح خواتین کی حقوق کی تنظیموں اور شہریوں کے حقوق کے سرگرم کارکنوں اور ماحولیات کے لیے کام کرنے والوں نے صدر ٹرمپ کااقتدار شروع ہونے کے ساتھ دنیا بھر میں مظاہرے کیے.

ایک ایسے وقت میں جب کہ واشنگٹن میں بڑی تعداد میں خواتین اپنے حقوق کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے جمع ہیں، ان کے ساتھ یک جہتی کے لیے امریکہ کے کئی دوسرے شہروں سمیت دنیا بھر خواتین مظاہرے کر رہی ہیں۔

یہ مظاہرے صدر ڈونلڈٹرمپ کے اپنی چار سالہ مدت کے لیے عہدے سنبھالنے کے ایک روز بعد ہو رہے ہیں۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے لگ بھگ 30 گروپس کو صدارتی حلف برداری اور اس کے بعد مظاہروں کے اجازت نامے جاری کیے ہیں۔

سان فرانسسکو میں حواتین کا مظاہرہ- 21 جنوری 2017
سان فرانسسکو میں حواتین کا مظاہرہ- 21 جنوری 2017

جمعے کے دن ڈونلڈٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر بھی دارالحکومت واشنگٹن ڈی میں ہزاروں لوگوں نے مظاہرے کیے جو کئی مقامات پر تشدد میں بدل گئے۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ عمارتوں کے شیشے توڑے اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔

واشنگٹن میں احتجاجی مظاہروں کی طرح خواتین کی حقوق کی تنظیموں اور شہریوں کے حقوق کے سرگرم کارکنوں اور ماحولیات کے لیے کام کرنے والوں نے صدر ٹرمپ کا اقتدار شروع ہونے کے ساتھ دنیا بھر میں مظاہرے کیے۔

لاس اینجلس میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017
لاس اینجلس میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

یہ مظاہرے مسٹر ٹرمپ کے ان تبصروں کے خلاف ہیں جو وہ اپنی طویل انتخابی مہم اور مختلف موقعوں پر خواتین، تارکین وطن، مسلمانوں، نسلی گروپوں، ہم جنس پرستوں، ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والوں اور کئی دوسروں کے بارے میں کرتے رہے ہیں۔

آسٹریلیا میں ہزاروں مظاہرین نے سنڈنی میں امریکی قونصیلت تک مارچ کیا اور نئے صدر کے خلاف بقول ان کے نفرت پر مبنی بیانات پر احتجاج کیا اور انہیں جنس اور نسل کی بنیاد پر تعصب برتنے والی شخصیت قرار دیا۔

سپین کے شہر بارسلونا میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017
سپین کے شہر بارسلونا میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

آسٹریلیا کے ٹیلی وژن کی معروف شخصیت اور مصنفہ ٹریسی سپائسر نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب عالمی تحریک کا حصہ ہیں اور سات براعظموں کے 600 سے زیادہ شہروں میں ہونے والے احتجاج میں ہماری آواز شامل ہے۔

نیروبی میں احتجاجی مارچ کی ایک منتظم ریچل مویکالی نے خبررساں ادارے روئیٹرز سے کہا کہ امریکی خواتین اس تحریک میں اکیلی نہیں ہیں۔ ہم سب ا ن کے ساتھ ہیں۔

ڈبلن آئر لینڈ میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017
ڈبلن آئر لینڈ میں خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

نائیجیریا، جنوبی افریقہ ، ملاوی اور مڈغاسکر سمیت کئی دوسرے افریقی ملکوں میں بھی احتجاجی مظاہرے ترتیب دیے گیے ہیں۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے انٹارکٹیکا سمیت دنیا کے ہر براعظم میں مظاہروں کا بندوبست کیا ہے اور دنیا کے ہر حصے کی خواتین اپنے حقوق کے دفاع کے لیے متحد اور یک زبان ہیں۔

لندن میں ہزاروں خواتین نے امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا ۔ایمسٹرڈم، ہیگ اور برلن سمیت یورپ کے کئی دوسرے شہروں میں بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔

برسلنز مین خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017
برسلنز مین خواتین کا مظاہرہ۔ 21 جنوری 2017

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG