رسائی کے لنکس

عالمی دہشت گردی میں عورتوں کی تعداد میں اضافہ: ماہرین


عراقی خاتون ساجدہ مبارک عطروس الريشاوی اپنی خود کش جیکٹ دکھا رہی ہیں۔ فائل فوٹو
عراقی خاتون ساجدہ مبارک عطروس الريشاوی اپنی خود کش جیکٹ دکھا رہی ہیں۔ فائل فوٹو

’’سماجی رابطے پر چلائی گئی مہمات عورتوں کو شدت پسند تنظیموں میں بھرتی کرنے کے لیے خاص طور پر مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔‘‘

چوٹی کے ماہرین کے مطابق پوری دنیا میں زیادہ سے زیادہ عورتیں دہشت گرد اور انتہا پسند گروہوں میں شامل ہو رہی ہیں اور اس میں سوشل میڈیا یعنی سماجی رابطے کی ویب سائٹیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

جہاں بہت سے ماہرین نے متشدد انتہا پسندی میں عورتوں کی شمولیت کو زبردستی کا نتیجہ قرار دیا، واشنگٹن میں ہونے والے ایک فورم میں شامل حکام نے اس کی زیادہ تفصیلی وضاحت کی۔

یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی ایک فیلو رابعہ چوہدری نے کہا کہ بہت سی عورتیں شناخت اور تعلق کے احساس کی تلاش میں شدت پسند گروہوں میں شمولیت اخیتار کرتی ہیں۔

انہوں نے ’انسٹیٹیوٹ کے کنفلیکٹ پریوینشن اینڈ ریزولوشن فورم‘ میں پیر کو کہا کہ ’’وہ یہ بتانا چاہتی ہیں کہ وہ اس مقصد کے لیے اتنی ہی پرخلوص ہیں جتنا کہ مرد۔‘‘

تہران میں طالبات خود کش حملوں میں شرکت اور شہادت کی آمادگی ظاہر کرنے کے لیے ایک فارم پر کر رہی ہیں۔ فائل فوٹو
تہران میں طالبات خود کش حملوں میں شرکت اور شہادت کی آمادگی ظاہر کرنے کے لیے ایک فارم پر کر رہی ہیں۔ فائل فوٹو

رابعہ کا خاندان پاکستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں غیر مغربی خاندانوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین کو شناخت کے بحران کا سامنا ہے۔

اس کے باعث وہ سماجی رابطے پر دہشت گردوں کے پیغامات اور تصاویر کا آسانی سے شکار ہو جاتی ہیں اگرچہ یہ پیغامات امریکہ سے باہر سے آتے ہیں۔ ’’وہ امریکہ مخالف نہیں ہوتیں، مگر وہ خود کو امریکی محسوس نہیں کرتیں۔‘‘

تصفیہ تنازعہ کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم سرچ فار کامن گراؤنڈ کے ایشیا کے ڈائریکٹر مائیکل شپلر نے کہا کہ سماجی رابطے پر چلائی گئی مہمات عورتوں کو شدت پسند تنظیموں میں بھرتی کرنے کے لیے خاص طور پر مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا القاعدہ کے لیے بنیادی سہولت کار ثابت ہوا اور داعش نے القاعدہ کی طرف سے چلائی گئی انتہائی کامیاب سوشل میڈیا مہمات سے فائدہ اٹھایا۔

یو ایس آرمی وار کالج کی فیلو کیتھلین ٹرنر نے بتایا کہ اگرچہ عورتیں پرتشدد اقدامات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے رہی ہیں مگر شدت پسند گروہوں میں ان کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عورتوں نے پیرو اور کولمبیا کے باغی اور انقلابی گروہوں اور حالیہ مہینوں میں داعش اور بوکوحرام میں نمایاں کردار ادا کیا۔

نائیجریا میں دو عورتوں کی طرف سے جنوری 2015 میں کیے گئے ایک خود کش حملے کے بعد کا منظر۔ فائل فوٹو
نائیجریا میں دو عورتوں کی طرف سے جنوری 2015 میں کیے گئے ایک خود کش حملے کے بعد کا منظر۔ فائل فوٹو

شپلی کا کہنا ہے کہ سرکاری سوشل میڈیا اور دیگر عوامی آگاہی کی مہموں نے شدت پسندی کا مقابلہ کرنے میں قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا۔

کیتھلین ٹرنر نے کہا کہ امریکی حکومت کو چاہیئے کہ وہ پہلے عورتوں کے دہشت گرد گروہوں میں کردار کو پہچانے۔ ان کے مطابق عورتوں کو خطرے کے طور پر نہ دیکھنا باعث تشویش ہے اور دہشت گرد گروہ عورتوں کو جنگجوؤں اور خود کش بمباروں کے طور پر استعمال کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔

ٹرنر نے سفارش کی کہ امریکہ کو عورتوں کی دہشت گرد کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی اپنانی پڑے گی جس کے لیے روک تھام، تربیت اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG