رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے سرکاری اداروں کی اہمیت بہت زیادہ مگر ان میں اصلاح کی ضرورت ہے: ووڈرو ولسن سینٹر


Kugelman

واشنگٹن میں ووڈرو ولسن سینٹر کے ایشیا پروگرام نے حال ہی میں پاکستان کے اداروں کے بارے میں ایک نئی کتاب شائع کی ہے، جس میں یہ سفارشات شامل کی گئی ہیں کہ ان اداروں کی کارکردگی کیسے بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ ولسن سینٹر کے تحت پاکستان کے اداروں پر اس تحقیق نے پارلیمان، عدلیہ اور دیگر سرکاری اداروں کی کارکردگی میں انحطاط کی تفصیل کے ساتھ ساتھ ان میں بہتری کی تجاویز بھی بیان کی گئی ہیں۔

اس مقالے کی ادارت 'ولسن سینٹر' میں جنوبی ایشیا اور ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈئیرکٹر، مائیکل کوگل مین نےکی ہے، جبکہ پاکستان سے متعدد ماہرین نے اس میں مقالے لکھے ہیں، جن میں عشرت حسین، مدیحہ افضل، وارث حسین، محمود مانڈوی والا، احمد بلال محبوب، عمر سیف، عدنان خان اور عاصم خواجہ شامل ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیڈر اگر ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں، تو اُنہیں پہلے ان اداروں کو فعال بنانا ہوگا۔ پاکستان میں صرف چند ہفتوں بعد، انتخابات ہو رہے ہیں۔ آئندہ حکومت ان اداروں کو فعال بنانے میں کیسے کامیاب ہو سکتی ہے، اس بارے میں مائیکل کوگل مین کچھ زیادہ پر امید نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی اختلافات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ حکومت خواہ کوئی بھی آئے، اس بارے میں خدشات موجود ہیں کہ اداروں میں اصلاحات میں کوئی اتفاقِ رائے ہو پائے گا۔

پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے پہلے چار عشروں کے دوران اس کی معیشت، ترقی پذیر ملکوں میں، سب سے زیادہ تیزی سے نمو پا رہی تھی، مگر ماہرین کہتے ہیں کہ انیس سو نوے کے عشرے میں اس کی شرح نمو چھہ اعشاریہ پانچ سے چار اعشاریہ پانچ فیصد تک آگئی۔

ماہرین کے مطابق، ایسا نہ تو سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث ہوا اور نہ ہی غیر ملکی امداد اور اخراجات میں عدم توازن کے وجہ سے۔ تاہم، حکومتی اداروں میں انحطاط کی وجہ سے ملک کی اقتصادی صورتحال میں تنزلی ضرور آئی۔

کوگل مین کہتے ہیں کہ حکومت نے اداروں میں لوگوں کی تقرری میرٹ پر نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اعلی عہدوں پر ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں اپنے کام سے کوئی سروکار نہیں، بلکہ وہ وہاں محض اپنے سیاسی روابط اور سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے موجود ہیں۔

اگرچہ حکومت کی کارکردگی میں ہر حکومتی ادارے کا عمل دخل ہوتا ہے۔ تاہم، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیویلپمنٹ اینڈ ٹرانس پیرینسی (پِلڈیٹ) کے صدر احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ابتدا پارلیمان سے ہوتی ہے، جہاں سیاسی لیڈر، پالیسی کے اہم فیصلوں میں حصہ لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس کی وجہ پارلیمان سے باہر اپنے حلقوں میں اُن کی مصروفیات ہیں۔

ولسن سینٹر کے مائیکل کوگل مین کہتے ہیں کہ اس کتاب میں پاکستانی ماہرین نے کافی قابلِ قدر تجاویز پیش کی ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نئی پارلیمان آنے پر بجٹ پر تفصیلی بحث کی جائے اور ایسا میکینزم موجود ہو کہ نو منتخب اراکین پارلیمان، بجٹ سے متعلق بحث میں زیادہ حصہ لیں۔

اگرچہ پاکستان میں آئندہ حکومت کے بارے میں کوئی پیش گوئی مشکل ہے اور اداروں میں اصلاحات کے بارے میں بھی کچھ کہنا ممکن نہیں۔ تاہم، احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ گزشتہ پانچ برس میں، کچھ بہتری ضرور آئی ہے، جو خوش آئند ہے۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:04:22 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG