رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: 60 ماہ میں 60 کروڑ افراد کے لیے 11 کروڑ ٹوائلٹ بنانے کا دعویٰ


فائل فوٹو

بھارت میں ملک کو صاف رکھنے کے لیے ایک پانچ سالہ وسیع پروگرام کے تحت 60 کروڑ افراد کے لیے مجموعی طور پر 11 کروڑ ٹوائلٹ بنائے گئے ہیں۔ یہ کام 60 ماہ میں مکمل کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔

اس کے بارے میں نئی دہلی سے وائس آف امریکہ کے لیے انجنا پسریچا نے تفصیلات مرتب کی ہیں۔

اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دو اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ بھارت کے دیہی علاقوں میں کھلے آسمان کے نیچے ٹوائلٹ کے استعمال کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔

تاہم دنیا میں ٹوائلٹ بنانے کے سب سے بڑے پروگرام کے بارے میں جسے پانچ برس پہلے شروع کیا گیا تھا، ملے جلے نتائج کی جانب توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اس منصوبے کے لیے 20 ارب ڈالر مختص کیے گئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لاکھوں دیہات میں ٹوائلٹ مہیا کرنے میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن کھلے میدانوں میں ٹوائلٹ کے لیے لوگوں کا آنا جانا اب بھی ختم نہیں ہوا۔

بھارت میں اس مقصد کے لیے کھیتوں میں جانا معمول کی بات خیال کی جاتی ہے اور ملک میں ابھی تک ہر ایک کو ٹوائلٹ تک رسائی حاصل نہیں۔

سینتیس سالہ کومل گوڈل کاتجربہ ٹوائلٹس کی تعمیر کے فوائد اور اس کی کمی کی صورت حال کو اجاگر کرتا ہے ۔

بھارت میں لوگ اب بھی ٹوائلٹ کے لیے کھلے مقامات کا رخ کرتے ہیں — فائل فوٹو
بھارت میں لوگ اب بھی ٹوائلٹ کے لیے کھلے مقامات کا رخ کرتے ہیں — فائل فوٹو

وہ شمال کی ریاست راجستھان میں اپنے گاؤں سے ایک گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے کے لیے نئی دہلی آئی ہے ۔ دو برس پہلے اسے گاؤں میں ٹوائلٹ بنانے کے لیے 200 ڈالرز کی رقم حکومت کی طرف سے امداد کے طور پر دی گئی تھی اس قسم کی امدادی رقم لاکھوں غریب لوگوں میں تقسیم کی گئی ہے تاہم کومل کی بہن ، جو اسی گاؤں میں رہتی ہیں، اس امدادی رقم سے محروم رہی ہیں۔

Anchorتاہم ناقدین کا الزام ہے کہ ٹوائلٹس کی تعمیر میں مدد دینے کے لیے امدادی رقم کی تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا۔

کومل گوڈی وال نے بتایا کہ نئی دہلی کی کچی آبادی میں، جہاں وہ رہتی ہیں دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں غریب رہتے ہیں جہاں صفائی ستھرائی کے مسائل کا سامنا ہے وہ اور اس کے خاندان کے افراد آٹھ دوسرے خاندانوں کے ساتھ ایک ہی باتھ روم استعمال کرتے ہیں ۔

سرکاری ملازمین کی جانب سے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے — فائل فوٹو
سرکاری ملازمین کی جانب سے اعداد و شمار بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے — فائل فوٹو

ان کا کہنا ہے کہ اسے اس مقصد کے لیے صبح پانچ بجے اٹھنا پڑتا ہے نہیں تو باتھ روم بہت گندا ہو چکا ہوتا ہے اور لوگوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔

پانچ برس پہلے کی بات ہے کہ دنیا میں بھارت وہ ملک تھا جہاں بیشتر لوگ یعنی ساٹھ کروڑ افراد کھلے آسمان تلے ٹوائلٹ کا استعمال کرتےتھے۔ ان میں زیادہ تر افراد کا تعلق دیہی علاقوں سےتھا۔ جہاں گھر میں ٹوائلٹ کبھی بھی ترجیحات میں شامل نہیں تھا اور اس کی وجہ ، اس کے خلاف وہ صدیوں پرانی ثقافتی مزاحمت تھی کہ ایک ہی چھت کے نیچے، جہاں باورچی خانہ اور عبادت کی جگہ بھی ہو،ٹوائلٹ بھی بنایا جائے۔

اب یہ صورت حال ڈرامائی طور پر بہتر ہو گئی ہے اس لیے کہ کم خرچ والے ڈیزائن کے تحت ، تیزی سے لاکھوں ٹوائلٹ تعمیر کیے گئے۔

ٹوئلٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے فلم بھی بنائی گئی — فائل فوٹو
ٹوئلٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے فلم بھی بنائی گئی — فائل فوٹو

ناقدین اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ سرکاری کارندوں نے جوش جذبات میں ٹوائلٹ کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہو تاکہ دو اکتوبرکی ڈیڈ لائن تک یہ اعلان کیا جا سکے کہ بھارت میں اب اس مقصد کے لیے کوئی کھیت کھلیان میں نہیں جاتا۔ اسی تاریخ کو بھارت کی آزادی کے رہنما ،مہاتما گاندھی کا 150 واں جنم دن بھی تھا۔

نئی دہلی میں قائم ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار کمپیشنیٹ اکنامکس نے گزشتہ برس بھارت کی چار ریاستوں میں سروے کیا جس کے مطابق 2014 میں جبکہ ٹوائلٹ کی تعداد 37 فی صدتھی گزشتہ سال بڑھ کر 71 فی صد ہو گئی تھی تاہم تقریباً ایک چوتھائی لوگ جن کو اگرچہ ٹوائلٹس کی سہولت حاصل تھی پھر بھی ٹوائلٹ کے لیے کھلے آسمان کا رخ کر رہے تھے وہ اسے زیادہ صحت مند خیال کرتے ہیں اور تازہ ہوا حاصل کرنے یا اپنے کھیت کھلیان کا نظارہ کرنے کا ایک موقع سمجھتے ہیں۔

حکومت اس سروے کو رد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ 3235 گھروں کا سروے اتنے وسیع و عریض پروگرام کے پیش نظر کوئی معنی نہیں رکھتا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

'کلین انڈیا مشن 'کے تحت زبردست اشتہاری مہم چلائی گئی ہے تاکہ لوگوں کو اس بات کی طرف راغب کیا جا سکے کہ وہ صدیوں پرانے طریقے کو چھوڑ کر تعمیر شدہ ٹوائلٹ کا استعمال کریں اس مقصد کے لیے تقریبا پانچ لاکھ رضا کاروں نے وسیع و عریض دیہی علاقوں میں اس پیغام کا پرچار کیا کہ کھلے میدانوں میں اپنی ضروریات سے فارغ ہونا کس طرح بیماریوں مثلاََ اسہال، ٹائیفائیڈ اور کیڑوں سے پیدا ہونے والے انفیکشن کو جنم دیتا ہے۔

پر کشش اشتہارات اور حتی کہ بالی وڈکی ایک فلم کے ذریعے اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ گھروں کے اندر ٹوائلیٹ سے خواتین کو سیکیورٹی مہیا ہوتی ہے ، جو رات کے اندھیرے میں اس کام کے لیے گھروں سے باہر جاتی ہیں۔

حفظان صحت کے بہت سے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگرچہ اب بھی مسائل موجود ہیں لیکن بہرحال اس کا بڑا فائدہ ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG