رسائی کے لنکس

logo-print

صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی اور ناقص صفائی امراض پھیلنے کی بڑی وجہ


فائل

دنیا بھر میں مختلف امراض کی ایک بڑی وجہ صحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ناقص صفائی بھی بتائی جاتی ہے؛ اور ایک بڑی وجہ گھروں اور رہائشی عمارتوں میں ٹوائلٹس کا نہ ہونا اور رفع حاجت کے لیے گھروں سے باہر جانا ہے۔

اس مشکل صورتحال میں سب سے بڑی تعداد بھارتیوں کی ہے، جہاں لگ بھگ 55 کروڑ افراد اب بھی ٹوائلٹ سے محروم ہیں۔ لیکن، پاکستان جہاں یہ صورتحال بہت اچھی سمجھی جاتی ہے وہاں بھی ایسے لوگوں کی تعداد دو کروڑ بیس لاکھ کے قریب موجود ہے۔

اس حوالے سے یونیسیف پاکستان میں آگہی پھیلانے کا کام کر رہا ہے، جس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ لوگ ٹوائلٹ سے تو محروم ہی ہیں، لیکن 7 کروڑ نوے لاکھ لوگ مشترکہ اور گندے ٹوائلٹس استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ طالب علموں کو اپنے اسکولوں میں معیاری اور صاف ستھرے ٹوائلٹس کی سہولت میسر نہیں۔

پاکستان میں خوش قسمتی سے شہری علاقوں میں اوپن ایریا میں رفع حاجت کرنے کی شرح صفر ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 21 فیصد تک ہے، جس کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یونیسیف کے مطابق، پاکستان کا اس حوالے سے دنیا بھر میں پانچواں نمبر ہے جبکہ بھارت کا پہلا نمبر ہے۔

یونیسیف نے اس سلسلے میں پاکستان کی مارکیٹ کا بھی بتایا ہے جس کے مطابق 5.7 ارب ڈالر میں ملک بھر میں موجود اس مسئلہ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ تمام افراد جو گھروں میں ٹوائلٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے باہر جاتے ہیں ان کے لیے ٹوائلٹس تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔

اس حوالے سے یونیسیف کی پاکستان میں نمائندہ عائدہ گیرما کہتی ہیں کہ پاکستان میں ہر گھر میں ایک صاف ستھرے ٹوائلٹ اور اس میں صابن کے استعمال سے روزانہ ہلاک ہونے والے 140 بچوں کی اموات کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ بچے ڈائریا سمیت دیگر ایسی ہی بیماریوں کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سینٹیشن بھی انسانی حقوق میں شامل ہے۔

یونیسیف نے اس حوالے سے گذشتہ دنوں اسلام آباد میں نجی شعبہ کی شراکت کے لیے ایک تقریب کا بھی انعقاد کیا جس کا مقصد ٹوائلٹس کی تعمیر کے لیے نجی شعبے کی مدد سے مکمل منصوبہ بندی کرنا تھا۔

اس موقعے پر وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر کا کہنا تھا کہ اس عمل میں نجی شعبہ کا شامل ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اسی سے کلین گرین پاکستان کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نجی شعبہ سے کہا کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لیے کم قیمت حل فراہم کریں۔

یونیسیف کے کنسلٹنٹ شاہد سہیل کہتے ہیں کہ اس مسئلے کو پاکستان میں اس قدر سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ ایک معیاری ٹوائلٹ کی تعمیر کے لیے چند ہزار روپوں کی ضرورت ہے۔ لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی کی بھی ترجیحات میں شامل نہیں۔ شہری علاقوں میں اگرچہ اس حوالے سے احساس موجود ہے لیکن دیہی علاقوں میں پانی کو آلودہ ہونے سے بچانے اور بچوں کی اموات روکنے کے لیے ہمیں ہر حال میں اس مقصد کو حاصل کرنا ہوگا۔

یونیسیف کی عائدہ گیرما کا کہنا تھا کہ سال 2030 تک پاکستان کو 2 کروڑ نئی سینیٹشن کی سہولیات فراہم کرنا ہوں گی، جبکہ موجودہ 3 کروڑ80 لاکھ ٹوائلٹس کو اپ گریڈ کرنا ہوگا، جبکہ دو کروڑ لوگوں کو مشترکہ سہولیات کے بجائے الگ سہولیات بھی فراہم کرنا ہونگی۔

عائدہ گیرما نے پاکستان کے نجی شعبے کو سینٹیشن بزنس میں فروغ کی نوید بھی سنائی اور کہا کہ پاکستان میں سال 2030 تک اس کی مارکیٹ 2.8 ارب ڈالر تک پھیل جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG