رسائی کے لنکس

logo-print

سال نو کی تقریبات، دنیا کے مختلف شہروں میں غیر معمولی سیکورٹی


نیویارک پولیس کے محکمے کا ایک اہلکار ٹائمز اسکوئر میں (فائل)

دنیا کے مختلف شہروں میں سال نو کی تقریبات کے موقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں، فوج اور سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا تاکہ ان تقریبات میں شرکت کرنے والوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

امریکہ میں نیویارک سٹی کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ 2018ء کی تقریبات کے موقع پر شہر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے جن میں ٹائمز اسکوائر کو جانے والے کئی سڑکوں کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والوں کی دو، دو مقامات پر اسکریننگ کے انتظامات بھی کئے گئے ہیں۔ یہاں ہر سال کے اختتام پر رات کے بارہ بجنے پر روایتی ٹائم بال گرائے جانے کو دیکھنے کے لیے تقریباً 20 لاکھ افراد کے جمع ہونے کی توقع ہے۔

اسی طرح کے انتظامات لاس ویگاس شہر میں بھی کئے جائیں گے جہاں سیکورٹی کے لیے 15 سو پولیس اہلکاروں کو تعینات کی جائے گا۔ یہاں بھی شہر کے معروف علاقے میں سال نو کو خوش آمدید کہنے کے لیے 3 لاکھ سے زائد افراد کے جمع ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔

دوسری طرف جنوبی امریکہ کے ملک برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں سال نو کے تقریبات کے موقع پر پولیس 12 ہزار اہلکاروں کو تعینات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوج کو بھی تیار رکنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کئی اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔

لندن میں بھی ایک ریکارڈ تعداد میں مسلح پولیس اہلکار نئے سال کے تقریبات کی نگرانی کے لیے شہر کے مختلف علاقوں اور زیر زمیں ریلوے نظام میں گشت کریں گے۔ تاہم لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں سیکورٹی کے حوالے سے کسی خطرے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

جرمنی کے بڑے شہروں بشمول برلن، میونخ، ہیمبرگ اور کلون میں ہونے والی تقریبات کے موقع پر اضافی پولیس فورس کو تعینات کیا جائے گا۔

افریقی ملک مصر جہاں جمعہ کو موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے قاہرہ کے نواح میں واقع ایک چرچ پر حملہ کر کے 9 افراد کو ہلاک کیا تھا، مصری حکام نے نئے سال کی آمد کے موقع پر سیکورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔

ترکی کے شہر استنبول میں پولیس نے نئے سال کے تقریبات سے پہلے شدت پسند گروپ داعش سے مشتبہ طور منسلک 120 افراد کو گرفتار کیا ہے اور شہر میں سیکورٹی کے سخت اقدمات کیے گئے ہیں۔

بھارت کی شہر ممبئی میں بھی نئے سال کے تقریبات کے موقع پر شہر کے مختلف علاقوں میں 30 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائےگا دوسری طرف پاکستان میں بھی نئے سال کی آمد کے موقع پر ملک کے بڑے شہروں میں سیکورٹی میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

آسٹریلیا جہاں نئے سال کی آمد سب سے پہلے ہوتی ہے، سیکورٹی اہلکار کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ سڈنی شہر کے مرکز میں پولیس کے اندازے کے مطابق 10 لاکھ سے زائد افراد نئے سال کا استقبال کرنے کے لیے جمع ہوں گےجبکہ میلبورن شہر کے مرکز میں بھی نئے سال کے آمد پر مختلف تقریبات ہوں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG