رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت نے پاکستان کو 89 رنز سے ہرا دیا


بھارت نے پاکستان کو ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت 89 رنز سے ہرا دیا۔ بھارت نے مقررہ 50 اوورز میں 5 وکٹس پر 336 رنز بنائے تھے ۔ اس ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے پاکستان نے 35 اوورز میں 6 وکٹسں پر 212 رنز بنائے تھے کہ میچ بارش کے باعث روک دیا گیا اور میچ کو 40 اوورز تک محدود کردیا گیا جبکہ نظرثانی شدہ ہدف 302 کردیا گیا۔

پاکستان بارش سے قبل 35 اوورز کھیل چکا تھا اب اسے صرف پانچ اوورز کھیلنا تھا۔ پاکستان پانچ اوورز میں 48 رنز بناسکا لہذا ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت بھارت کو 89 رنز سے کامیاب قرار دے دیا گیا۔

ڈک ورتھ لوئس کا قانون میچ کے بارش سے متاثر ہونے پر میچ کو فیصلہ کن بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان اننگز:
میچ کے آغاز پر امام الحق اور فخر زمان بیٹنگ کرنے آئے ۔ پاکستان نے بھارتی بالرز کے پہلے اوور میں دو رنز بنائے ۔ یہ اوور بھونیشور کمار نے کرایا تھا۔

پاکستان کا اسکور 13 رنز ہوا تو بھارت کو پہلی کامیابی مل گئی۔ امام الحق صرف 5 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔ انہیں وجے شنکر نے ایل بی ڈبلیو کیا۔

پاکستان نے 25 رنز کا اسکور سات اوور میں کیا جبکہ بھارت اتنا ہی اسکور کم اوورز میں کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ پہلی وکٹ کے نقصان پر پاکستان کے اگلے دونوں بیٹسمین نے سست رفتاری سے کام لیا یہاں تک کہ ایک موقع پر رن ریٹ چار تھا جبکہ مطلوبہ رنز ریٹ 8 تھا۔

یہاں سے پاکستانی بیٹسمین نے تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا خاص کر فخر زمان نے تیزی سے اسکور بڑھانے کی کوشش کی اور کئی باؤنڈیر لگائیں جبکہ اسی دوران وہ نصف سنچری بنانے میں بھی کامیاب رہے جبکہ بابر اور فخر نے 109رنز پر 100 رنز کی پارٹنر شپ بھی کی۔

24 ویں اوور کی آخری بال تھی کہ بابر اعظم 48 رنز پر کلدیب کی بال پر کلین بولڈ ہوگئے۔ ان کی جگہ محمد حفیظ بیٹنگ کرنے آئے لیکن دو ہی اوورز بعد فخر زمان کلدیب کی بال پر چہل کے ہاتھوں 62 رنز کے اسکور پر کیچ ہوگئے۔ یوں پاکستان کو تیسری وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔

چوتھی وکٹ بھی بھارت کو جلد ہی مل گئی، محمد حفیظ صرف 9رنز بناکر ہارک پانڈیا کی بال پر آؤٹ ہوگئے۔ ان کی جگہ شعیب ملک آئے اور خاموشی سے ایک ہی بال کھیل کر بغیر کوئی رنز بنائے ہاردک پانڈیا کی بالر پر ہی کلین بولڈ ہوکر پویلین لوٹ گئے۔ یوں صرف 129 رنز پر پاکستان کی آدھی ٹیم میدان سے باہر ہوگئی جبکہ بھارت 129 کے اسکور پر یکے بعد دیگر 2 وکٹیں لینے میں کامیاب ہوگیا۔

چھٹی وکٹ سرفراز احمد کی گری۔ ان کا اسکور 12 رنز تھا کہ وجے شنکر نے انہیں آؤٹ کردیا۔

پاکستان کا اسکور 35 اوورز میں چھ وکٹ کے نقصان پر 166 رنز ہوا تھا کہ بارش ایک مرتبہ پھر شروع ہوگئی اور کھیل کو درمیان میں ہی روک دینا پڑا۔

تقریباً ایک گھنٹے بعد بارش روکی تو میچ دوبارہ بارش شروع ہوگیا اور پاکستان نے 36 اوورز میں 6 وکٹ کے نقصان پر 172 رنز سے دوبارہ بیٹنگ کا آغاز کیا۔

آخری جوڑی کے طور پر عماد وسیم 46 اور شاداب خان 20 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

بھارت 336 رنز بناکر آؤٹ :
پاکستان اور بھارت کے درمیان مانچسٹر میں کھیلے گئے اہم ترین میچ میں بھارت نے اپنی اننگز میں مقررہ 50 اوورز میں 5 وکٹس کے نقصان پر 336 رنز بنائے ہیں لہذا پاکستان کو یہ میچ جیتنے کے 337 رنز کا ہدف حاصل کرنا ہوگا۔

اولڈ ٹریفورڈ گراؤنڈ مانچسٹر میں میچ کے آغاز پر پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور بھارت کو پہلے بیٹنگ کرنے کا موقع دیا۔

اس موقع پر پاکستانی کپتان سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ پچ پر نمی ہے اس لیے پہلے بولنگ کرنا مفید ہوسکتا ہے۔

بھارت کی جانب سے اننگز کا آغاز روہت شرما اور ویراٹ کوہلی نے کیا۔ دونوں ہی کھلاڑیوں نے کھل کر شارٹس کھیلے جبکہ پاکستان نے فیلڈنگ کی کمزوریوں پر آج بھی قابو نہیں پایا جس سے بھارتی اوپنر کو ابتدائی 10 اوورز میں 53 رنز بنانے کا موقع مل گیا۔

اس دوران روہت شرما 34 بالوں پر نصف سنچری بنانے میں کامیاب رہے جس میں 2 چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔ غالباً وہ روہت کو جم کر بیٹنگ کرنے اور رنز بنانے کا موقع دینا چاہتے تھے ۔ شاید ان کے پیش نظر یہ خیال بھی ہو کہ وہ بعد میں خود بھی تیز کھیل کر اسکور کو مزید آگے لے جائیں گے جبکہ اس دوران ان کے ساتھی کو جلد لمبا اسکور بنانے کا موقع مل جائے گا۔ ایسا انہوں نے ٹیم اسپریٹ کے تحت بھی سوچا ہوگا۔

بھارت 18 ویں اوور میں پہلے 100 رنز بنانے میں کامیاب ہوا جس میں راہول کے 36 اور روہت شرما کے 60 رنز شامل تھے جبکہ صرف چار اوور بعد بھارت کا مجموعی اسکور 123 رنز ہوگیا جس میں راہول کی نصف سنچری بھی شامل تھی۔

24 ویں اوور میں پاکستان کو پہلی کامیابی راہول کی وکٹ گرنے کی صورت میں ملی۔ وہاب ریاض سے انہیں بابر اعظم کے ہاتھوں 57 رنز پر کیچ کرا دیا۔ ان کی جگہ بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی بیٹنگ کرنے کریز پر پہنچے۔

ویراٹ کوہلی کی بھی یہی حکمت عملی رہی کہ انہوں نے روہت کو زیادہ کھیلنے اور سینچری کرنے کا موقع دیا جس کی بدولت روہت شرما 100 سے زائد رنز بنانے میں کامیاب رہے۔

35 ویں اوور میں بھارت کا اسکور ڈبل سینچری کے مساوی ہوگیا یعنی ایک وکٹ پر 200 رنز۔ روہت شرما ابھی تک سب سے زائد رنز بنانے میں کامیاب رہے تھے۔

38 ویں اوور میں پاکستان کو اب تک کی سب سے بڑی وکٹ لینے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ حسن علی نے اپنی بال پر وباب ریاض کے ہاتھوں روہت کو کیچ کرایا۔ ان کی جگہ ہاردک پانڈیا بیٹنگ کرنے آئے۔

ادھر 44 ویں اوور میں ویراٹ کوہلی نصف سینچری کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ راہول اور روہت کے بعد آج کے تیسرے کھلاڑی تھے جنہوں نے اب تک 50 سے زائد رنز بنالئے تھے۔

اسی اوور میں ہاردک پانڈیا بابر اعظم کے ہاتھوں محمد عامر کی بال پر کیچ ہوگئے۔ ان کا اسکور 26 رنز تھا۔ ان کے بعد ایم ایس دھونی آئے لیکن وہ آج بہت ہی 'ان لکی' رہے اور صرف 1 رنز بناکر محمد عامر کی بال پر سرفراز کے ہاتھوں وکٹ کے پیچھے کیچ ہوگئے۔

اگلے کھلاڑی وجے شنکر تھے جو بیٹنگ کرنے آئے۔ انہیں ویراٹ کوہلی کا ساتھ دینا تھا لیکن بھارت نے 46 اعشاریہ 4 اوورز میں 4 وکٹ کے نقصان پر 307 رنز تھا، ویراٹ کوہلی 71 اور وجے شنکر 1 رنز پر کھیل رہے تھے کہ بارش شروع ہوگئی اور میچ روکنا پڑا۔

بارش روکنے کے بعد میچ دوبارہ شروع ہوا تو بھارت کی ایک اور وکٹ گر گئی۔ محمد عامر نے ویراٹ کوہلی کو 77 رنز پر آؤٹ کیا جس کے بعد بھارت نے مقررہ 50 اوورز میں 336 رنز بنائے۔ وجے شنکر 15 اور جادیو 9 رنز بناسکے اور ناٹ آؤٹ رہے۔

پاکستانی بالر محمد عامر
پاکستانی بالر محمد عامر

بارش کا امکان:
برطانوی محکمہ موسمیات نے پہلے ہی آج وہاں کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے سے بارش ہونے کے امکانات ظآہر کئے تھے ۔ رواں ورلڈ کپ کے اب تک بارش سے چار میچ بری طرح متاثر ہوچکے ہیں جن میں پاکستان کا بھی ایک میچ شامل ہے۔

پاکستانی ٹیم میں شاہین شاہ آفریدی اور آصف علی کے بجائے شاداب خان اور عماد وسیم کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے ۔ باقی کھلاڑیوں میں امام الحق، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، سرفراز احمد، شعیب ملک، شاداب خان، عماد وسیم، محمد عامر، وہاب ریاض اور حسن علی شامل ہیں۔

بھارتی ٹیم : ویرات کوہلی، کے ایل راہول، روہت شرما، مہندرسنگھ دھونی، ہاردک پانڈیا، وجے شنکر، کیدار یادیو، کلدیپ یادیو، جسپریت بمرا، بھونیشور کمار اور یوز ویندر چہل۔

پوائنٹس ٹیبل
پاکستان اب تک 4 میچزکھیل چکا ہے جس میںاسے 2 میں شکست اور ایک میں کامیابی حاصل ہوئی جبکہ ایک میچ بارش کی نذر ہوا، جس کا ایک پوائنٹ ملا۔ اس طرح وہ 3 پوائٹس کے ساتھ نویں اور بھارت 5 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

باقی ٹیموں کا جائزہ لیں تو آسٹریلیا کے 8 پوائنٹس ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کے7، انگلینڈ 6، سری لنکا 4، ویسٹ انڈیز 3، جنوبی افریقہ 3، بنگلادیش 8 اور افغانستان کے 4 پوائنٹس ہیں۔

XS
SM
MD
LG