رسائی کے لنکس

logo-print

تیل کی پیداوار میں امریکہ کی نمایاں پیش رفت: رپورٹ


’آئی اِی اے‘ نے بتایا ہے کہ 2035ء میں امریکہ تیل کی اپنی تمام ضروریات ملکی وسائل سے پوری کرنے کے قابل بن جائے گا، جس طرف وہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے

توانائی کےبین الاقوامی ادارے ،’ آئی اِی اے‘ کا کہنا ہے کہ 2016ء تک امریکہ تیل پیدا کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک کےطور پر سعودی عرب اور روس سےسبقت لےجائے گا، اور دو عشروں کے اندر توانائی کے میدان میں خودکفیل ہو چکا ہوگا۔

ادارے نےمنگل کے روز بتایا کہ امریکہ اور کینیڈا کی طرف سے برازیل میں’شیل‘ آئل ڈرلنگ اور زیریں آب تیل کی تلاش کے کام میں حاصل ہونے والی کامیابی کے نتیجے میں، اگلے 10برسوں کے اندر امریکہ کا مشرق وسطیٰ کے سایہ تلے قائم تیل درآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم پر انحصار ختم ہوجائے گا، اور وہ تیل پیدا کرنے والا دنیا کا نمایاں ملک بن چکا ہوگا۔

تاہم، پیرس میں توانائی استعمال کرنے والے 28 ممالک سےتعلق رکھنے والے ادارے کے مشیر نے کہا ہےکہ 2020ء کے وسط تک جب نارتھ ڈکوٹا اور ٹیکساس کی وسطی امریکی ریاستوں کی تیل کی کانوں سے تیل نکلنا بند ہوجائے گا، دنیا میں تیل پیدا کرنے والے ملک کے طور پر امریکہ کی برتری ختم ہوجائے گی، اور اُس کے بعد مشرق وسطیٰ کے ممالک ہی بڑھی ہوئی تیل کی ضروریات کا زیادہ تر حصہ پورا کریں گے۔

’ورلڈ انرجی آؤٹ ُلک‘ کے سالانہ شمارے میں، ’آئی اِی اے‘ نے بتایا ہے کہ 2035ء میں امریکہ تیل کی اپنی تمام ضروریات ملکی وسائل سے پوری کرنے کے قابل بن جائےگا، جس طرف وہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک طویل عرصے سے خودکفالت کا حصول امریکی راہنماؤں کا ہدف رہا ہے۔

’آئی اِی اے‘ نے کہا ہے کہ اُبھرتی ہوئی معیشتوں کے باعث دنیا بھر کی توانائی کی طلب میں اضافہ ہو گا، اور یہ کہ 2030ء تک تیل کے سب سے بڑے صارف کے طور پر چین امریکہ سے سبقت لے جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق، تیل کی ضرورت کے حساب سے، چین، بھارت اور مشرق وسطیٰ کو دنیا میں پیدا ہونے والے تیل کے تیسرے حصے کے استعال کی ضرورت پیش آئے گی۔

تاہم، ادارے کا کہنا ہے کہ تیل کے بڑھتے ہوئے نرخ کے نتیجے میں دنیا بھر میں توانائی کی سلامتی کا معاملہ خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔ سنہ 2011سے اوسطاً تیل کی قیمت 110ڈالر فی بیرل تک بڑھ چکی ہے۔

ادارے کی انتظامی سربراہ، ماریا وان ڈر ہووین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم، ادارے کی پیش گوئی کے مطابق، تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی، اور 2035 تک یہ 128ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں گی۔

’آئی اِی اے‘ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں آنے والا اضافہ نسبتاً یکساں نوعیت کا ہے، جب کہ قدرتی گیس کے نرخ عام طور پر مختلف سطح پر ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ امریکہ میں گیس کی بڑے پیمانے پر پیداوار کے نتیجے میں، امریکی صارفین اور کاروباری اداروں کو، یورپ اور جاپان کے مقابلے میں، کافی کم قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، جہاں زیادہ تر ایندھن کا دارومدار درآمدات پر ہے۔
XS
SM
MD
LG