رسائی کے لنکس

logo-print

پیرس: عالمی رہنماؤں کی قیادت میں لاکھوں افراد کی ریلی


ریلی کی قیادت فرانس کے صدر فرانسس اولاں اور یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے 40 سے زائد ممالک کے سربراہان اور ان کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے کی۔

فرانس میں انتہا پسندی کے خلاف اور دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں میں مرنے والوں کے لواحقین سے اظہارِ یکجتی کے لیے دارالحکومت پیرس میں منعقد ہونے والی ریلی میں لاکھوں افراد نے شرکت کی ہے۔

ریلی کی قیادت فرانس کے صدر فرانسس اولاں اور یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے 40 سے زائد ممالک کے سربراہان اور ان کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے کی۔

"یکجہتی ریلی' میں شریک درجنوں عالمی رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پیرس کی سڑکوں پر مارچ کیا جن کے پیچھے دارالحکومت اور ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے لاکھوں افراد موجود تھے۔

ریلی کے منتظمین نے جلوس میں 13 سے 15 لاکھ افراد کی شرکت کا دعویٰ کیا ہے۔فرانس کے وزیرِ داخلہ برنارڈ کیزینووا نے کہا ہے کہ جلوس میں لوگوں کی تعداد "اتنی تھی کہ ان کی گنتی ناممکن ہے۔"

ریلی کی قیادت کرنے والے قابلِ ذکر عالمی رہنماؤں میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، برطانیہ کے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون، اطالوی وزیرِاعظم میٹیو رینزی، اسپین کے وزیرِاعظم ماریانو راجوئے، جرمن چانسلر اینگلا مرخیل، اسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو اور یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو شامل تھے۔

ریلی میں ترکی کے وزیرِاعظم احمد اوغلو، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس، اردن کے شاہ عبداللہ اور ان کی اہلیہ ملکہ رانیہ اور افریقہ کے مسلم ملک مالی کے صدر ابراہیم بوباکار کیٹا بھی شریک ہوئے۔ ریلی میں امریکہ کی نمائندگی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر جب کہ روس کی نمائندگی وزیرِخارجہ سرجئی لاوروف نے کی۔

ریلی کا مقصد فرانس میں رواں ہفتے تین روز تک پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت اور ان میں ہلاک ہونے والے 17 افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا تھا۔

ان حملوں کا آغاز بدھ کو ایک سیاسی جریدے 'چارلی ایبڈو' کے پیرس میں قائم دفتر پر تین شدت پسندوں کے حملے سے ہوا تھا جس میں جریدے کے عملے کے 10 افراد اور دو پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔

بدھ کو ہی شدت پسندوں کے ایک مبینہ ساتھی نے ایک خاتون پولیس اہلکار کو بھی شہر کی ایک شاہراہ پر فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

بعد ازاں جمعے کو حملے میں ملوث مبینہ ملزمان نے شہر کے دو مختلف مقامات پر بعض افراد کو یرغمال بنالیا تھا جن کی رہائی کے لیے کی جانے والی کارروائی میں چار لوگ مارے گئے تھے۔ کارروائی میں تینوں شدت پسند بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

پیرس میں دہشت گردی کے ان واقعات کے باعث فرانس کی فضا سوگوار ہے اور دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف اور حملوں میں مرنے والے افراد سےاظہارِ یکجتیک کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے ہورہے ہیں۔

پیرس میں اتوار کو ہونے والے 'ملین مارچ' کو حکومت اور ملک کی مرکزی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی اور فرانس کے وزیرِاعظم مانیول والز نے بھی عام شہریوں سے دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والی ریلیوں میں بھرپور شرکت کی اپیل کی تھی۔

پیرس کی مرکزی ریلی میں فرانس میں آباد مسلمانوں کی بڑی تعداد، مسلم انجمنوں کے رہنما اور مرکزی مساجد کے امام بھی شریک ہوئے۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ برنارڈ کیزینووا کے مطابق ریلی کےشرکا خصوصآً عالمی رہنماؤں کی سکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور دارالحکومت میں پولیس اور فوج کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں۔

XS
SM
MD
LG