رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی برادری کا پناہ گزینوں سے متعلق ذمہ داریاں بانٹنے پر اتفاق


نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ یہ کانفرنس پناہ گزینوں خصوصاً بچوں کے لیے کسی ٹھوس پیش رفت کا باعث بنے گی۔

بین الاقوامی برادری نے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے اپنا ردعمل بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا۔

پیر کو اقوام متحدہ میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں رکن ممالک نے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے حقوق کے تحفظ اور عالمی سطح پر ہونے والی بڑی نقل مکانی سے متعلق اپنی ذمہ داریاں بانٹنے پر اتفاق کیا۔

عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اجلاس کو بتایا کہ "پناہ گزین اور تارکین وطن کو ایک بوجھ کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ اگر ہم ان سے استفادہ کریں تو ان میں بڑی صلاحیتیں موجود ہیں۔۔۔ہمیں ہر صورت ان لوگوں کے انسانی حقوق کو اپنے عزم میں مقدم رکھا ہوگا۔"

دنیا بھر میں تنازعات یا تشدد، غربت اور قدرتی آفات کے باعث تقریباً ساڑھے چھ کروڑ لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

نیویارک میں ہونے والے اجلاس کے اعلامیے بحرانوں سے متاثر ہونے والے ممالک کے لیے حمایت میں اضافے، بے گھر ہونے والے بچوں کی تعلیم تک رسائی اور پناہ گزینوں کی آبادکاری کے لیے معاونت کو بڑھانے کی بابت زور دیا گیا۔

حکومتوں کو وہ اپنے ہاں ہر سال دس فیصد پناہ گزینوں کو آباد کرنے کی تجویز کو اس اعلامیے میں شامل نہیں کیا گیا جس پر غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے خاصی تنقید کی جا رہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اعلامیے میں وہ "موقع ضائع" کر دیا گیا جو کہ پناہ گزینوں کے تحفظ کو وسیع کرنے اور نئے ٹھوس اقدام کے لیے ضروری تھا۔

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ یہ کانفرنس پناہ گزینوں خصوصاً بچوں کے لیے کسی ٹھوس پیش رفت کا باعث بنے گی۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ "اس بات سے فریب مت کھائے کہ جو آج ہم نے اقوام متحدہ میں سنا، اس پر توجہ دیں جو ہم نے نہیں سنا۔۔۔اعلامیے میں پناہ گزینوں کے بارے میں کسی نئے، اہم عزم کا ذکر نہیں ہے۔

ملالہ کا کہنا تھا کہ پناہ گزین بچے "زیادہ کی امید لگائے بیٹھے تھے، وہ زیادہ کے حقدار ہیں۔"

اقوام متحدہ کی توجہ کا زیادہ مرکز پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے بارے میں امتیازی سلوک اور خوف کو ختم کرنے پر ہے کیونکہ بہت سے ممالک اتنی بڑی نقل مکانی کے باعث اپنی سرحدیں بھی بند کرتے نظر آتے ہیں۔

ادھر منگل کو امریکہ کے صدر براک اوباما اسی بارے میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرنے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG