رسائی کے لنکس

logo-print

شام سے متعلق بین الاقوامی اجلاس جمعے کو نیویارک میں


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون یہ کہہ چکے ہیں کہ "اس وقت جو سب سے ضروری بات ہے جیسا کہ ہم ویانا میں پہلے اور دوسرے مذاکراتی ادوار میں متفق ہوئے، ہمیں جلد از جلد پورے ملک میں جنگ بندی ہونی چاہیے۔"

شام میں سیاسی طور پر انتقال اقتدار کے مجوزہ منصوبے پر بات چیت کے تیسرے دور کے لیے عالمی طاقتوں کے عہدیدار جمعہ کو نیویارک میں جمع ہو رہے ہیں۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت ہونے جا رہا ہے جب آئندہ ہفتوں میں اقوام متحدہ کی حمایت سے شام کی حکومت اور حزب مخالف کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ جمعہ کو ہونے والی بات چیت میں روس اور ایران سمیت وہ تمام ممالک شامل ہیں جو ویانا میں ہونے والے بات چیت کے دوسرے دور میں شریک ہوئے تھے۔

ترجمان جان کربی نے کہا کہ " اس کا مقصد سیاسی منتقلی عمل کیا ہونا چاہیے اس پر واضح انداز میں تبادلہ خیال اور جنگ بندی کے تصور کے لیے مزید مخلص کوشش کرنا ہے۔"

توقع ہے کہ سیریئن اسپورٹ گروپ "آئی ایس ایس جی" کہلانے والا یہ گروپ اس ضمن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توثیق کے لیے ایک قرارداد بھی پیش کرے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون یہ کہہ چکے ہیں کہ "اس وقت جو سب سے ضروری بات ہے جیسا کہ ہم ویانا میں پہلے اور دوسرے مذاکراتی ادوار میں متفق ہوئے، ہمیں جلد از جلد پورے ملک میں جنگ بندی ہونی چاہیے۔"

اس گروپ کے مقاصد میں دہشت گردوں کی ایک فہرست بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے جس کے تھت ان گروپوں کو مجوزہ جنگ بندی کے عمل سے باہر رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ یہ شامی حزب مخالف کے ان گروپوں کی فہرست بھی تیار کرے گا جن کے نمائندے حکومت کے ساتھ سیاسی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

جمعرات کو دیر گئے اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں بات کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اجلاس میں حزب مخالفین کے قابل قبول نمائندوں کی نشاندہی کے ضمن میں کسی پیش رفت پر تحفظات کا اظہار کیا۔

XS
SM
MD
LG