رسائی کے لنکس

یہ بیماری خاص طور پر کمزور آبادیوں کو  نشانہ بناتی ہے،  جن میں  تارکین وطن ، پناہ گزین  قیدی اور اپنے معاشرے میں نظر انداز کر دیے جانے والے لوگ شامل ہیں۔

آج ٹی بی کا عالمی دن منایا جا رہاہے جس کا مقصد اس بیماری کے خلاف آگاہی پیدا کرنا ہے جو ہر سال لگ بھگ 18 لاکھ لوگوں کی جانیں لے لیتی ہے۔ اس بیماری کےتقریباً دو تہائی واقعات صرف چھ ملکوں بھارت ، انڈو نیشیا ، نائیجیریا ، پاکستان اور جنوبی افریقہ میں پیش آتے ہیں۔

تپ دق دنیا میں سب سے مہلک متعدی بیماری ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے ٹی بی سے متعلق پروگرام کے ڈائریکٹر ماریو راونگلائن کا کہنا ہے کہ یہ دن کو منانے کا مقصد اس بیماری کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والی آبادیوں کے بار ے میں آگاہی پھیلا نا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر روز پانچ ہزار لوگ ٹی بی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔یہ بیماری خاص طور پر کمزور آبادیوں کو نشانہ بناتی ہے، جن میں تارکین وطن ، پناہ گزین قیدی اور اپنے معاشرے میں نظر انداز کر دیے جانے والے لوگ شامل ہیں۔

حالیہ دنوں میں دنیا بھر میں ٹی بی کی ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھنے سے عوامی صحت کے لیے ایک ہنگامی خطرے میں اضافہ ہو گیا ہے۔

جنوبی افریقہ ان ملکوں میں شامل ہے جہاں یہ بیماری سب سے زیادہ پھیلتی ہے ۔ کیپ ٹاؤن یونیورسٹی کے ڈاکٹر کیرتان ڈھیڈا نے وائس اف امریکہ سے اسکائپ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ میں ٹی بی موت کی سب سے عام وجہ ہے اور افریقہ میں یہ بیماری کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ایک نئی امید یہ پیدا ہوئی ہے کہ ایک نئی دوا دستیاب ہو چکی ہے۔

ان کا کہناتھاکہ لگ بھگ چالیس یا پچاس سال بعد پہلی بار ہمارے پاس دو دوائیں دستیاب ہیں ایک کو bedaquiline کہتے ہیں جو جنوبی افریقہ میں اب رجسٹر ڈ ہو چکی ہے اور بہت سے ایسے مریضوں کے لیے دستیاب ہے جن پر ٹی بی کی موجودہ ادویات بے اثر ہو چکی ہیں ۔اور دوسری نئی دوا delamanid ہے۔ اسے ابھی جنوبی افریقہ میں لائسنس نہیں ملا ہے لیکن وہ دوسرے ملکوںمیں دستیاب ہے۔

ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ان نئی ادویات کو درست طریقے سے استعمال نہ کیا گیا اور انہیں تیزی سے تقسیم نہ کیا گیا تو ان کا اثر زائل ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر کیرتان کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں کمیونٹی میں جانے اور ایسے مریضوں کو تلاش کر نے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ٹی بی کی بڑی بڑی وجوہات سے نمٹنے کی ضرورت ہے جن میں غربت ، گنجائش سے زیادہ لوگوں کا ایک جگہ رہنا ، غذائیت کا فقدان، شراب نوشی، سگریٹ نوشی اور بائیو ماس ایندھن کا استعمال شامل ہیں۔

رپورٹ کے مصنف کا کہنا ہے کہ ٹی بی کے خلاف مزید مزاحمت پیدا ہونے سے روکنے کےلیے نئی ادویات کی مقدار کو ہر مریض کی بیماری کی شدت کے مطابق واضح ہدایات کے ساتھ تجویز کیا جانا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG