رسائی کے لنکس

ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو میں سات ہزار سے زیادہ زہریلے مادے ہوتے ہیں ۔ اس کا دھواں نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتا ہے بلکہ زہریلے اجزا کینسرسمیت متعدد امراض کو جنم دیتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی وجہ سے تقریباً 70 لاکھ لوگ قبل از وقت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور یہ قومی معیشتوں کا ایک بھاری نقصان ہے۔

تمباکو نوشی کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر صحت کے عالمی اداروں اور أقوم متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے تمباکو نوشی کے ماحول پر منفی اثرات کے بارے میں ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کی تمباکو نوشی پر کنٹرول کے پروگرام کے رابطہ کار اور پروگرام منیجر وینائیک پرساد کا کہنا ہے کہ اس سے زمین کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جنگلات ختم ہوتے ہیں اور اس کے بڑے پیمانے هر معاشی نقصانات ہوتے ہیں۔ اعداد وشمار نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک تمباکو نوشی سے ہونے والے اقتصادی نقصانات کو مکمل طور پر احاطہ نہیں کیا جا سکا کیونکہ حکومتوں نے تمباکو کی صنعت کو اس بارے میں رپورٹ دینے کے لیے نہیں کہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور ترقيات کے عالمی ادارے کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمباکو کے کچرے میں انسانوں میں کینسر پیدا کرنے والے مرکبات سمیت سات ہزار زہریلے مادے ہوتے ہیں جو ماحول کو زہر آلود کرتے ہیں ۔ صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی صرف وقت سے پہلے موت کا باعث ہی نہیں بنتی بلکہ جو لوگ تمباکو استعمال کرتے ہیں وہ تمباکو سے منسلک کئی بیماریوں اور معذوریوں کا بھی نشانہ بن جاتے ہیں،جن میں نابینا پن ، اعضا کا کاٹ دیا جانا ، اور منہ کی بیماریاں اور صحت شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ تمباکو نوشی پر قابو پانے کے موثر اقدامات کے باوجود لوگوں کی ہلاکتوں میں اس لیے اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ آج جو افراد مر رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو پرانے تمباکو نوش تھے ۔ اور تمباکو کے استعمال پر کنٹرول کی پالیسیوں کے اثرات ظاہر ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG