رسائی کے لنکس

پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے بر وقت اقدامات پر زور


فائل فوٹو

پانی سے متعلق ماہر مرزا حامد حسن کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے زراعت کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔

پاکستان میں پانی سے متعلق ماہرین اور عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے اور انہیں توسیع دینے کے لیے بروقت اقدام نا کیے گئے تو آئندہ چند سالوں کے دوران ملک کو پانی کی کمی کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ انتباہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں بدھ کو پانی کے وسائل کے تحفظ و ان سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

اس موقع پر پاکستان میں پانی اور بجلی کی ترقی سے متعلق ادارے واپڈا کے مشیر عبدالخالق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔

"ہم نے تین ڈیم بنائے تھے منگلا، تربیلا اور چشمہ اور ان کی تہہ میں مٹی اور گارے (جمع ہونے) کی وجہ ان کی پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش بدستور کم ہو رہی ہے ۔۔۔ اور ہم یہ سمجھتے ہیں 2025 تک جب ہم ایک نیا اسٹوریج ڈیم بنائیں گے اس وقت ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں چالیس فیصد کمی ہو جائے گی۔"

پانی سے متعلق ماہر مرزا حامد حسن کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے زراعت کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے جو ان کے بقول ملک کی معیشت کا اہم حصہ ہے۔

"ہمارے دریاؤں میں گرمیوں میں پانی زیادہ ہوتا ہے اور سردیوں میں ان میں پانی کم ہو جاتا ہے اور نتیجتاً اگر پانی ذخیرہ نا ہو اور ہماری سردیوں کی جو فصلیں ہیں ان کے لیے پانی دستیاب نہ ہو تو ہمارے لیے بڑے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں تو اس کے لیے بھی پانی کو ذخیرہ کرنا ضروری ہے۔"

مرزا حامد کا کہنا ہے کہ ملک کی پائیدار ترقی کے لیے پانی کے وسائل میں اضافہ کرنا بھی نہایت ضروری ہے

عبدالخالق نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پانی کو ذخیرہ کرنے کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

"اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے واپڈا نے جو منصوبہ بنایا ہے ان میں کچھ منصوبوں کی ترتیب وضع کی ہے ان میں پہلے نمبر پر بھاشا ڈیم ہے۔ بھاشا ڈیم سے ہمیں تقریباً 60 لاکھ ایکڑ فٹ پانی مل جائے گا، اس کے ساتھ ہماری منصوبہ بندی میں یہ شامل ہے کہ ہم نے منڈا ڈیم بنانا ہے، تنگی ڈیم بنانا ہے اور ہم نے داسو ڈیم بنانا ہے اور اس کے علاوہ بھی پانچ چھ ڈیم کے منصوبے زیر غور ہیں۔"

لیکن مرزا حامد نے کہا کہ پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ بارش اور سیلاپ کے پانی کو چھوٹے پیمانے پر ذخیرہ کرنے کے طریقوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے اور ان کے بقول اس سے ایسے علاقوں میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے جہاں گرمیوں میں پانی کی شدید قلت ہو جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG