رسائی کے لنکس

logo-print

2016ء تک ایک فیصد امیر افراد کے پاس دنیا کی نصف دولت ہو گی: رپورٹ


آکسفیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے 80 امیر ترین افراد 1.9 کھرب ڈالر کے مالک ہیں۔

بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم آکسفیم کی ایک رپورٹ کےمطابق آئندہ سال دنیا کے ایک فیصد امیر ترین افراد کے پاس دنیا کی کل دولت کا 50 سے زائد فیصد ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق 2009ء امیر ترین افراد کے پاس دنیا کی کل دولت کا 44 فیصد تھا جب کہ 2014ء میں وہ دنیا کی کل دولت کے 48 فیصد کے مالک تھے۔

سوئٹرزلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے سالانہ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس سے قبل پیر کو یہ رپورٹ جاری کی گئی۔

آکسفیم نے متنبہ کیا ہے کہ ’’عدم مساوات میں بہت زیادہ اضافہ‘‘ ایک ایسے وقت میں غربت کے خلاف کوششوں میں رکاوٹ بن رہا ہے جب ہر نو میں سے ایک شخص کو نا کافی خوراک کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک ارب سے زیادہ افراد کو روزانہ گزارے کے لیے 1.25 ڈالر سے بھی کم دستیاب ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے 80 امیر ترین افراد 1.9 کھرب ڈالر کے مالک ہیں جب کہ تقریباً اتنی ہی رقم ہے مشترکہ طور پر دنیا کے ایسے ساڑھے تین ارب افراد کے پاس ہے جن کا شمار آمدنی کے لحاظ سے نچلی سطح پر کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ونی بائنمیا ڈیووس کے اجلاس کی مشترکہ طور پر صدارت کریں گی۔ توقع ہے کہ وہ اس اجلاس کے دوران بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو روکنے کے لیےفوری اقدمات کا مطالبہ کریں گی۔

انتہائی عدم مساوات کو روکنے کے لیے آکسفیم ملکوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ ٹیکس کی چوری کو روکیں، عوام کے لیے سہولتوں کو بہتر کریں اور دولت پر ٹیکس لگائیں۔

جب کہ تنظیم کی طرف سے کم سے کم اجرت کا میعار متعارف کروانے پر بھی زور رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG