رسائی کے لنکس

logo-print

جنگلی و آبی حیات میں 'تشویشناک' حد تک کمی: رپورٹ


عالمی تنظیم "ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ" یعنی ڈبلیو ڈبلیو ایف نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ سب سے زیادہ کمی تازہ پانی میں بسنے والے جانداروں میں ہوئی جو کہ ان چار دہائیوں میں 76 فیصد تک کم ریکارڈ کی گئی۔

دنیا میں گزشتہ چالیس سالوں کے دوران چرند، پرند اور آبی حیات کی آبادی میں پہلے سے لگائے گئے اندازوں کی نسبت کہیں زیادہ کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ بات منگل کو جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم "ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ" یعنی ڈبلیو ڈبلیو ایف نے اپنی ایک رپورٹ میں کہی جس کے مطابق 1970ء سے 2010ء کے دوران آبی حیات، دودھ دینے والے جانوروں، پرندوں اور دیگر جنگلی حیات میں 52 فیصد کمی واقع ہوئی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ درخت لگانے کی نسبت ان کی کٹائی میں اضافہ، پانی کا زیادہ استعمال اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے زیادہ اخراج سے انسانوں کی ضروریات کا بوجھ اس سے 50 فیصد زیادہ ہے جو قدرتی ماحول انسانوں کو فراہم کر سکتا ہے۔

سب سے زیادہ کمی تازہ پانی میں بسنے والے جانداروں میں ہوئی جو کہ ان چار دہائیوں میں 76 فیصد تک کم ریکارڈ کی گئی۔

اس کی وجہ سے مچھلیوں کا زیادہ شکار آبی حیات کی قدرتی آماجگاہوں کو پہنچنے والا نقصان اور ماحولیاتی تبدیلیاں بتائی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا میں فی کس سب سے زیادہ قدرتی وسائل کا استعمال اور ان کے ضیاع کرنے والوں میں کویت سر فہرست ہے جس کے بعد قطر اور متحدہ عرب امارات کا نمبر آتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے انٹرنیشنل ڈائریکٹر جنرل مارکو لامبرتینی کا کہنا تھا کہ "یہ بہت ضروری ہے کہ جب ہم یہ کر سکتے ہیں تو ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے کہ ہم ایک پائیدار مستقبل تشکیل دیں جہاں لوگ قدرت کے ساتھ ہم آہنگی اور خوشحالی سے زندگی گزار سکیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ فطرت یا قدرت کے تحفظ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم جنگلی حیات یا آماجگاہوں کو بچائیں بلکہ ان کے بقول یہ "دراصل انسان کی اپنی بقا" کے لیے بہت ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG