رسائی کے لنکس

logo-print

جنگ عظیم دوئم میں جاپان کے کردار پر شنزو ایبے کی ندامت


جاپانی وزیر اعظم نے بدھ کو ابھرتی ہوئی ایشیائی طاقت چین کے مقابلے میں دنیا کے محافظ کے طور پر ٹوکیو کے اعلان ایمرجنسی سمیت دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے کردار پر گہری ندامت کا اظہار کیا

جاپانی وزیر اعظم شینزو ایبے نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے کردار پر ایک بار پھر ندامت کا اظہار کیا ہے۔

جاپانی وزیر اعظم نے بدھ کو ابھرتی ہوئی ایشیائی طاقت چین کے مقابلے میں دنیا کے محافظ کے طور پر ٹوکیو کے اعلان ایمرجنسی سمیت دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے کردار پر گہری ندامت کا اظہار کیا۔

جاپانی وزیر اعظم ابے کا اصرار تھا کہ ٹوکیو کو اپنے جوشیلے رویے کے نتیجے میں ایشیائی عوام کو پیش آنے والی پریشانیوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیئے تھا۔

شینزو ایبے پہلے جاپانی وزیر اعظم ہیں جنھیں ایک ہفتے کے دورہٴواشنگٹن کے دوران امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا اعزاز حاصل ہوا، اس موقع پر انھوں نے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امریکہ جاپان دوستی کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور دوسری جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کے لئے تعزیت کی پیشکش کی۔

ان کی تقریر دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی سترہویں سالانہ تقریب میں بدل گئی تھی۔ وزیراعظم ایبے منگل کی شب وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں منعقدہ ایک سحر انگیز عشائیہ کے مہمان خصوصی تھے جسے عنابی روشنیوں اور چیری بلاسم سے سجایا گیا تھا۔

امریکی صدر براک اوباما نے اس موقع پر روایتی جاپانی شاعری ’ہائیکو‘ کے ساتھ وزیر اعظم ایبے کا خیرمقدم کیا اور روائتی شمپین کی بجائے چاول سےبنے ہوئے مشروب استعمال کیے۔

قبل ازیں، صدر اوباما نے وائٹ ہاوس میں منعقدہ پمپ فیلڈ کی تقریب میں جاپانی رہنماء کا خیرمقدم کیا اور اس موقع پر کہا کہ امریکہ نے ایشیا پسفک میں رہنمائی کی تجدید کردی ہے، جس کے بعد وزیر اعظم ایبے بین الااقوامی پلیٹ فارم پر جاپان کے نئے کردار کی قیادت کر رہے ہیں۔ دونوں جانب کی جدوجہد امریکہ جاپان اتحاد کی بنیادوں کو مستحکم کررہی ہیں۔

وزیر اعظم ایبے نے امریکہ جاپان اتحاد کو ہمیشہ سے زیادہ مضبوط قراردیتے ہوئے کہا کہ ٹوکیو عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں امریکہ کے ساتھ سب سے آگے ہوگا۔

XS
SM
MD
LG