رسائی کے لنکس

logo-print

'2020ء افغانوں کے لیے امن اور خوشحالی کا سال ثابت ہو گا'


عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان، تدامچی یماموتو (فائل)

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان، تدامچی یماموتو نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ سال 2020ء افغانستان کے لیے امن کا سال ثابت ہو گا، جس میں خوشحالی عوام کا مقدر بنے گی۔

ہفتے کے روز اپنے ایک پیغام میں انھوں نے کہا کہ کابل سے جاتے ہوئے لاکھوں افغانیوں کی طرح وہ اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ افغانستان میں امن و امان کا دور جلد لوٹ آئے۔

انھوں نے کہا کہ 2020ء لڑائی کے خاتمے کا سال ہو گا، جب افغانوں کی پر امن اور خوشحال معاشرے کی تمنا پوری ہو گی، جس خواہش کا انھیں پورا حق ہے۔

پانچ برس تک خدمات انجام دینے کے بعد کابل سے رخصت ہوتے ہوئے، اقوام متحدہ کے اہل کار نے کہا کہ ان پانچ سالوں کے دوران انھیں موقع ملا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے افغان عوام کی خدمت بجا لائیں، جس عہدے کو یماموتو نے اپنی خوش نصیبی قرار دیا۔

اس موقع پر نمائندہ خصوصی نے افغان عوام، بین الاقوامی پارٹنرز اور احباب کا شکریہ ادا کیا، جنھوں نے خدمت بجا لانے میں، بقول ان کے، میرا ساتھ دیا۔

اقوام متحدہ کے عہدے دار نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اب بھی افغان معاشرے کو چیلنجوں کا سامنا ہے۔ لیکن، بقول ان کے، ''مجھے پورا اعتماد ہے کہ اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک افغان عوام ان مشکلات پر ضرور حاوی پائیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ آئندہ بھی اقوام متحدہ افغان عوام کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہو گا اور ان کی ہر طرح سے مدد جاری رکھی جائے گی۔

ادھر، وائس آف امریکہ کی ڈیوا سروس کی ایک اور رپورٹ کے مطابق، افغان صدارتی محل کے اہل کاروں نے کہا ہے کہ انتخابات اور صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد افغان حکومت کا دھیان اس وقت افغانستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں پر مرتکز ہے۔

جمعے کے روز ایک بیان میں ایوان صدر کے معاون ترجمان، دعویٰ خان میناپال نے سفیر خلیل زاد کی جانب سے سامنے آنے والے بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت افغانستان تمام سیاسی رہنماؤں پر زور دیتی ہے کہ وہ کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوششوں میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں۔

زلمے خلیل زاد نے تمام افغان رہنمائوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سب کی شراکت داری پر مشتمل حکومت کے سمجھوتے پر رضامند ہوں اور درپیش سیاسی بحران کو ختم کرنے میں مدد دیں۔

ترجمان نے زابل میں ہونے والے حملے کے امن عمل پر پڑنے والے مضر اثرات کا ذکر کیا۔

ایک افغان سیاسی تجزیہ کار، فیض محمد زلند کا بھی یہی خیال ہے کہ اس حملے کا امن عمل پر برا اثر پڑے گا۔

عبدالکبیر رنجبار سیاسی تجزیہ کار اور سیاسی امور کے ایک ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی حکومت کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی اور افغانستان میں جنگ بندی کے لیے کام کرنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG