رسائی کے لنکس

logo-print

ایس ٹی سی سعودی اتحاد سے الگ، جنوبی یمن اور عدن کی خود مختاری کا اعلان


ہوثی گروپ کا ایک مسلح حامی۔ صنعا کی سڑکوں پر اس طرح کے کئی مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ 9 اپریل 2020

یمن میں جہاں سعودی عرب کی قیادت میں ایک اتحاد ہوثیوں کے خلاف لڑ رہا ہے، اب علیحدگی پسند ساؤتھ ٹرانزیشنل کونسل نے عدن اور جنوبی علاقوں میں اپنی خود اختیاری کا اعلان کر دیا ہے اور یوں نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو توڑ دیا ہے جو نومبر میں ہوا تھا بلکہ یمن کے تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

سعودی قیادت والے اتحاد نے گروپ پر زور دیا ہے کہ وہ اس اقدام سے باز رہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ گروپ معاہدے پر عمل درآمد کے لئے فوری اقدام کرے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سے ایک ایسے وقت میں تصادم بڑھے گا جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فریق کرونا وائرس سے نمٹنے کے کام پر توجہ مرکوز کریں۔

اس اقدام سے یہ خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ کونسل اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان پھر سے تصادم شروع ہو جائے گا۔

ایس ٹی سی کو سعودی قیادت والے اتحاد میں سعودی عرب کے ایک بڑے حلیف متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے۔

ممتاز تجزیہ کار اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر زبیر اقبال کا کہنا ہے کہ جہاں تک عدن اور جنوبی علاقوں کا تعلق ہے وہ کبھی بھی یمن کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔ صنعا کی حکومت کے پاس تیل کی دولت تھی اس لئے وہ ان کے ساتھ مل گئے تھے۔ ورنہ وہ ہمیشہ ہی سے علیحدگی چاہتے تھے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایس ٹی سی کو متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے جب کہ امارات سعودی قیادت والے اتحاد کا بھی حصہ ہے تو اب سعودی عرب اور امارات کے درمیان تعلقات کی نوعیت ممکنہ طور پر کیسی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اور متحدہ عرب امارات، سعودی عرب کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی ایک توازن رکھنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی صورت حال سعودی عرب اور اور اس کے اتحادیوں کے لئے مشکلات میں اضافہ کر دے گی، جہاں یہ اتحادی یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے شانہ بہ شانہ ہوثی باغیوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔ جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔

ڈاکٹر زبیر اقبال کا کہنا تھا اس تصادم میں یمن بحیثیت ایک ملک اہم نہیں ہے کیونکہ وہاں ایسا کچھ نہیں ہے جس کے لئے لڑا جائے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ سعودی عرب اور ایران کے درمیان خطے میں بالا دستی حاصل کرنے کی جنگ ہے۔ جو ابھی تک کوئی بھی فریق حاصل نہیں کر سکا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اب معاملات ایک کولڈ پیس کی طرف جانا شروع ہو جائیں۔

ادھر یمن کے لئے اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن گرفتھ نے بھی نئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جب کہ اقوام متحدہ پورے ملک میں ایک مستقل جنگ بندی کے لئے کوشاں ہے، تاکہ کرونا وائرس کے خلاف سب متحد ہو کر جدوجہد کر سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG