رسائی کے لنکس

logo-print

یاسر شاہ کے نئے کارناموں کی اندرون و بیرونِ ملک دھوم


دبئی ٹیسٹ میں نئے ریکارڈز بنانے والے یاسر شاہ (فائل فوٹو)

یاسر شاہ کی تباہ کن بالنگ کی بدولت پاکستان دنیا کی ایسی پہلی ٹیم بن گئی ہے جس نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر کسی ٹیم کو اننگز سے شکست دی ہے۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان بدھ کو ختم ہونے والے دبئی ٹیسٹ نے پاکستان کو یاشر شاہ کی صورت میں کرکٹ کا ’نیا ہیرو‘ ملا ہے تو خود یاسر شاہ کو ’میچ وننگ بالر‘ اور ’لیگ اسپننگ کا جادوگر‘ جیسے خطابات ملے ہیں۔

دبئی ٹیسٹ میں انہوں نے ایک کے بعد ایک نئے ریکارڈز بنائے، کچھ پرانے ریکارڈز توڑے اور نئے اعزازات اپنی ٹیم اور اپنے نام کیے۔

اس سے قبل کہ یاسر شاہ مزید ریکارڈز بنا ڈالیں، آئیے دبئی ٹیسٹ میں بننے والے کچھ نئے ریکارڈز نظر ڈال لیتے ہیں:

یاسر شاہ کی بدولت ٹیم کو ملی نئی کامیابیاں

یاسر شاہ کی تباہ کن بالنگ کی بدولت پاکستان دنیا کی ایسی پہلی ٹیم بن گئی ہے جس نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر کسی ٹیم کو اننگز سے شکست دی ہے۔

یاسر شاہ کی بدولت پاکستانی ٹیم کو سات سال کے طویل انتظار کے بعد بیرونِ ملک کسی بھی ٹیم کو اننگز کی شکست سے دو چار کرنے کا موقع ملا ہے۔

پاکستان نے اس سے قبل 2011ء میں بنگلہ دیش کو چٹاگانگ ٹیسٹ میں اننگز سے ہرایا تھا۔

یاسر شاہ کو حاصل ہو نے والے اعزازات

یاسر شاہ نے پہلی اننگز میں 6 اور دوسری اننگز میں 8 وکٹیں لے کر ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 184 رنز کے عوض 14 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ یہ کامیابی ان کے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین بالنگ ہے۔

عمران خان کے بعد ۔۔ بہترین اعداد و شمار

یاسر شاہ کی بدولت جو نئے اعداد و شمار مرتب ہوئے ہیں وہ کسی بھی پاکستانی بالر کے بہترین اعداد و شمار ہیں۔ 1992ء میں ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کپتان اور فاسٹ بولر عمران خان نے 1982ء میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف 116 رنز دے کر 14 وکٹیں لی تھیں جو کسی بھی پاکستانی بالر کی سب سے اچھی کارکردگی ہے۔

عبدالقادر اور افضل محمود بھی پیچھے رہ گئے

سابق لیگ اسپنر عبدالقادر 1987ء میں انگلینڈ کے خلاف 101 رنز کے عوض 13 جب کہ سابق پاکستانی فاسٹ بولر افضل محمود نے 1956ء میں آسٹریلیا کو 114 رنز دے کر 13 وکٹیں لی تھیں۔

سری لنکن بولر سے تین وکٹ آگے

پاکستانی لیگ اسپنر کی 14 وکٹیں متحدہ عرب امارات کے کسی بھی میدان میں بہترین بالنگ پرفارمنس ہے۔ گزشتہ سال سری لنکا کے رنگنا ہیراتھ نے ابوظہبی میں 136رنز دے 11 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

صرف بھارتی لیگ اسپنر سے پیچھے

یاسر شاہ کی پرفارمنس دنیا کے کسی بھی لیگ اسپنر کی تیسری بہترین پرفارمنس ہے۔ یاسر شاہ سے آگے صرف بھارتی لیگ اسپنر نریندرا ہروانی اور انیل کمبلے ہیں۔

نریندر ہروانی نے 1988ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے ڈبیو ٹیسٹ میں 136 رنز دے کر 16 وکٹیں حاصل کی تھیں جب کہ انیل کمبلے نے 1999ء میں پاکستان کے خلاف دہلی ٹیسٹ میں 149 رنز کے عوض 14 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ پرفارمنس میں سب سے آگے

یاسر کی یہ بولنگ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں کسی بھی بالر کی بہترین پرفارمنس ہے۔ اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بالر کورٹنی واش نے 1995ء میں ویلنگٹن ٹیسٹ میں 55 رنز دے کر 13 وکٹیں لی تھی۔

یاسر شاہ کے کچھ خاص ریکارڈز

یاسر شاہ اپنے کیریئر میں صرف 32 ٹیسٹ میچز کے دوران کسی بھی اننگز میں 16مرتبہ پانچ یا اس سے زائد جب کہ تین مرتبہ 10 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

اکتوبر 2014ء میں آسٹریلیا کے خلاف دبئی میں اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کرنے والے یاسر شاہ اب تک 32 ٹیسٹ میچوں کی 62 اننگز میں 28 اعشاریہ 23 کی اوسط سے مجموعی طور پر 195 وکٹیں لے چکے ہیں۔ اُنہیں اپنی 200 وکٹیں مکمل کرنے کے لیے صرف 5وکٹوں کی ضرورت ہے۔

اگر وہ اگلے تین ٹیسٹ میچوں میں پانچ وکٹیں حاصل کر لیتے ہیں تو سابق آسٹریلوی لیگ بریک گلی بولر کلیری گریمیٹ کا تیز ترین 200 وکٹیں لینے کا 82 سال پرانا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔

اور ممکن ہے 3 دسمبر سے ابوظہبی میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میں ہی یہ ریکارڈ بھی یاسر شاہ کے نام ہوجائے۔

سینئر کھلاڑی کیا کہتے ہیں:

کرکٹ کے حلقوں میں یاسر شاہ کے تذکرے رکنے میں نہیں آ رہے۔ ہر جگہ ان کے چرچے ہیں۔ ان کے کچھ ساتھیوں، غیر ملکی کھلاڑیوں، ماہرین اور تبصرہ نگاروں کی رائے پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں:

یاسر شاہ کی شاندار کارکردگی پر جہاں پاکستان ٹیم کے کپتان اور کوچ خوش ہیں، وہیں مایہ ناز کیوی بیٹسمین راس ٹیلر نےتو یہاں تک کہہ دیا کہ "میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اپنے کیریئر کے دوران بعض بہت اچھے اسپنرز کے خلاف کھیلا لیکن ان میں یاسر شاہ سب سے اوپر ہے۔"

کپتان سرفراز احمد نے کہا، "یاسر شاہ نے دبئی ٹیسٹ میں جو بالنگ کی، آج تک ایسی بالنگ نہیں دیکھی۔

مکی آرتھر کا کہنا ہے "یاسر بہترین بالر ہے اور اس نے اپنی بالنگ سے ٹیم کو فتح یاب کیا۔ ان کا تیسرے دن کا اسپیل انتہائی دلکش تھا۔"

شعیب اختر نے کہا، "یاسر کی بالنگ زبر دست تھی۔ ان کی بالنگ کے سبب ہی مخالف ٹیم وقت سے پہلے ہی ڈھیر ہوگئی۔"

رمیز راجا کا کہنا تھا، "یاسر شاہ کی ایسی زبردست بالنگ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی"۔

شاہد آفریدی نے تسلیم کیا کہ "یاسر چیمپئن بالر ہے۔ یہ تاریخ کے بہترین بالر بننے کی جانب گامزن ہے۔"

بھارتی کھلاڑی محمد کیف بھی یاسر شاہ کی تعریف میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "یاسر کا بالنگ اسپیل سنسنی خیز تھا۔ نیوزی لینڈ والے اسے کھیلتے ہوئے بے بس نظر آئے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG