رسائی کے لنکس

logo-print

اقوام متحدہ کے سربراہ کا یمن میں ’فوری جنگ بندی‘ کا مطالبہ


بان کی مون نے خبردار کیا کہ یمن ’’شلعوں کی زد‘‘ میں ہے اور کہا کہ اس کا واحد حل یہ ہے کہ تمام فریقین لڑائی بند کر کے مذاکرات میں حصہ لیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے یمن میں ’’فوری جنگ بندی‘‘ کا مطالبہ کیا ہے جہاں سنی عرب ملکوں کے اتحاد کی طرف سے شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی حملے جاری ہیں۔

واشنگٹن میں ایک تقریر کے دوران بان کی مون نے خبردار کیا کہ یمن ’’شلعوں کی زد‘‘ میں ہے اور کہا کہ اس کا واحد حل یہ ہے کہ تمام فریقین لڑائی بند کر کے مذاکرات میں حصہ لیں۔

انہوں نے نیشنل پریس کلب میں ایک تقریر میں کہا کہ ’’اقوامِ متحدہ کا حمایت یافتہ سفارتی عمل خطے کے استحکام کے لیے سنگین مضمرات کی حامل اس طویل جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ ہے۔‘‘

تین ہفتے قبل جب سے سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملے شروع کیے ہیں اس جنگ میں کم از کم 700 لوگ مارے جا چکے ہیں۔ حوثیوں کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔

اس ہفتے کے اوائل میں مراکش سے تعلق رکھنے والے یمن میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے جمال بن عمر نے طرفین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ان کی جگہ موریطانیہ کے ایک سفارت کار اسمٰعیل ولد شیخ احمد کو جلد نامزد کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق سعودی اور ان کے بہت سے اتحادی بن عمر کے حوثیوں کے بارے میں ’نرم موقف‘ سے نالاں سے۔

بان کی مون نے بن عمر کے متبادل پر کوئی تبصرہ نہیں کیا مگر اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے جمعرات کو کہا کہ سعودیوں نے انہیں یقین دہائی کرائی ہے کہ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ’’سیاسی عمل ضروری ہے۔‘‘

فضائی حملوں کی مہم اب تک حوثیوں پر فیصلہ کن ضرب لگانے میں ناکام رہی ہے مگر اس سے ملک کے بہت سے حصوں میں سکیورٹی خلا پیدا ہو گیا ہے۔

حوثیوں نے گزشتہ برس ستمبر میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ جنوب کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں اور انہوں نے صدر عبدالربوہ منصور ہادی کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔

حوثی باغیوں کو سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی حمایت بھی حاصل ہے، عبداللہ صالح کو 2012 میں بڑے عوامی احتجاج کے بعد منصب سے الگ ہونا پڑا۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ طاقتور دہشت گرد تنظیموں میں سے ایک ہے، اس انتشار کو ملک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

جمعرات کو القاعدہ نے یمن کے سب سے بڑے صوبے حضرموت کے دارالخلافہ، جنوبی ساحلی شہر موکالا کے ائیرپورٹ پر قبضہ کر لیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ موکالا میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو فوج کی جانب سے کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جنوبی یمن میں تیل کا ایک بڑا ٹرمینل بھی عسکریت پسندوں کے قبضے میں چلا گیا ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں القاعدہ جنگجوؤں نے موکالا میں ایک یمنی ملٹری کیمپ کو بھی قبضے میں لے لیا۔ انہوں نے شہر کی ایک جیل پر بھی دھاوا بول کر 300 کے قریب قیدیوں کو آزاد کرا لیا۔

XS
SM
MD
LG