رسائی کے لنکس

یمن: فضائی حملوں میں شہری ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ


سعودی قیادت کے فضائی حملوں میں ثنا کے قریب تباہ ہونے والی ایک عمارت ، اگست 2017

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے 58 عام شہریوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے جن میں وہ 42 شہری شامل ہیں جو سعودی قیادت کے اتحاد کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے۔

انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر نے یمن کے حکام سے ان درجنوں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جن میں سے بیشتر سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد کے حالیہ فضائی حملوں میں ہوئیں۔

سعودی عرب یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی بحالی کی کوشش میں 2015 میں یمن کی خانہ جنگی میں داخل ہوا تھا۔

یمن کی خانہ جنگی میں، جواب اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے، 17سے 24 اگست تک کا عرصہ ہر اعتبار سے ملک میں جاری خانہ جنگی کا نشانہ بننے والوں کے لیے خاص طور پر ہلاکت خیز رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے 58 عام شہریوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے جن میں وہ 42 شہری شامل ہیں جو سعودی قیادت کے اتحاد کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے۔

یو این ایچ سی آر کی ترجمان لز تھورسیل کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے 12عام شہریوں کو ہلاک کیا جب کہ حوثی باغیوں کے ساتھ منسلک، پاپولر کمیٹیز گروپ، کے مقامی جنگجوؤں کے ہاتھوں 4 شہری ہلاک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ہفتے ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی کل تعداد جون کے پورے مہینے میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں سے زیادہ ہےجس میں 52 لوگ ہلاک ہوئے تھے جب کہ جولائی میں یہ تعداد 57 تھی۔ مارچ 2015 سے اقوام متحدہ کا انسانی حقوق سے متعلق دفتر 13829 عام شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی رپورٹ دے چکا ہے جن میں 5110 وہ عام شہری شامل ہیں جو ہلاک ہوئے اور 8719 وہ جو زخمی ہوئے۔

ترجمان تھورسیل کا مزید کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے عام شہریوں کی مجموعی تعداد غالباً اس سے کہیں زیادہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اس ہفتے بدھ کے روز ا صنعا حکومت کا ایک ہوٹل سعودی قیادت کی اتحادی فورسز کے ایک فضائی حملے کا نشانہ بنا ۔ اسی روز کاشت کاروں کے زیر استعمال ایک گیسٹ ہاؤس ایک دوسرے حملے کی زد میں آیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں اہداف ہوثیوں کی بنائی ہوئی پڑتالی چوکیوں کے قریب تھے۔ دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ عینی شاہدین نے یمن کی ہماری ٹیم کو بتایا کہ ان تمام واقعات میں، جن میں عام شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، کوئی ایسا انتباہ جاری نہیں کیا گیا کہ کوئی حملہ ہونے والا ہے۔ انسانی ہمددردی کے بین الاقوامی قانون کے تحت عام شہریوں یا عام شہریوں کی املاک کو ہدف بنانے کی ممانعت ہے جو اندھا دھند یا غیر متناسب حملوں کی بھی ممانعت کرتا ہے۔

اقوام متحدہ یمن کے بحران کو دنیا کا سب سے بڑا بحران قرار دیتا ہے ۔دو سال سے زیادہ عرصے کی خانہ جنگی کے بعد، اس نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ ملک قحط کے دہانے پر ہے اور 18 ملین لوگوں کو انسانی ہمددردی کی معاونت کی ضرور ت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG