رسائی کے لنکس

logo-print

یمن میں سرکاری فورسز اور باغیوں میں لڑائی، 28 افراد ہلاک


حدیبیہ کی بندرگاہ پر ایک کارگو جہاز سے تیل اتارا جا رہا ہے۔ 27 مئی 2018

یمن میں حکومت کی حامی فورسز اور شیعہ باغیوں کے درمیان شدید لڑائیوں میں دونوں جانب سے کم از کم 28 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سیکیورٹی حکام اور اسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب سرکاری فورسز نے جنہیں سعودی قیادت کے اتحاد کے فضائی حملوں کی مدد حاصل تھی، مغربی ساحل کے ساتھ پیش قدمی کی۔

حالیہ ہفتوں میں حکومتی فورسز ہوثیوں کے طور پر معروف باغیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

عہدے داروں نے کہا ہے کہ حکومتی کنٹرول کے قصبے الفضا پر باغیوں کے8 گھنٹوں تک جاری رہنے والے حملے میں حکومت کے حامی 18 فوجی ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے۔

عہدے داروں نے بتایا کہ سرکاری فورسز نے باغیوں کا حملہ پسپا کر دیا جس میں کم ازکم 10 باغی ہلاک ہو گئے۔ مغربی ساحلی علاقے کے ساتھ یہ لڑائی چوتھے روز بھی جاری رہی۔

عہدے داروں نے یہ معلومات نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر دیں کیونکہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

سرکاری فورسز بحیرہ احمر کی بندرگاہ حدیبیہ پر ایک بڑا حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو جنگ زدہ ملک میں امداد کے داخلے کا اہم راستہ ہے۔ انہوں نے قریب واقع درجنوں قصبوں اور دیہاتوں سے باغیوں کو نکال دیا ہے۔

حدیبیہ کی بندرگارہ زیادہ تر یمنی باشندوں کے لیے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے کیونکہ اس راستے سے انہیں خوراک اور ادویات حاصل ہو تی ہیں۔

اقوام متحدہ نے منگل کے روز حدیبیہ کی صورت حال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مارچ میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ یمن کے مغربی ساحلی علاقے ساتھ لڑائیوں میں ایک لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر جانا پڑا ہے جن سے اکثر کا تعلق حدیبیہ سے ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ حالات مزید ابتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

تین سال سے جاری اس خانہ جنگی میں اب تک 10 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور 30 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ملک کا انفراسٹرکچر ٹوٹ پھوٹ چکا ہے اور حالات قحط کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG