رسائی کے لنکس

یمن میں خوف کا عالم، صحافی اپنا پیشہ ترک کر رہے ہیں


یمنی صحافی (فائل)

استنبول سے ہماری نامہ نگار ہیتھر مرڈوک نے یمن میں صحافیوں کے بارے ایک مبسوط رپورٹ مرتب کی ہے، جس انہوں نے لکھا ہے کہ یمن میں صحافیوں کو ہراساں، گرفتار کیا جاتا ہے اور ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یمن کے کئی صحافیوں کا احوال انہیں کی زبانی بیان کیا گیا ہے۔

ہیتھر مرڈوک لکھتی ہیں کہ سات سال پہلے یمن کے دارالحکومت صنعا میں ان کی ملاقات ایک جرات مند صحافی سے ہوئی تھی۔ وہ اسلحے کی سمگلنگ کے بارے ایک تفتیشی رپورٹ مرتب کر رہے تھے کہ اچانک انہیں گرفتار کر لیا گیا اور پھر ایک ماہ بعد ان کو رہا کر دیا گیا۔

اس صحافی نے (جن کا نام ان کے تحفظ کی خاطر مخفی رکھا جا رہا ہے) بتایا کہ انہیں جیل میں زد و کوب کیا گیا۔ صحافی نے کہا کہ یہ تشدد عام بات ہے۔ یمن میں کوئی صحافی محفوظ نہیں ہے۔ وہ خود بھی کئی بار گرفتار ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد حالات مزید ابتر ہو گئے ہیں۔

اس ماہ کے اوئل میں ایک عدالت نے چار صحافیوں کو پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ یہ عدالت حوثی گروپ نے قائم کی ہے۔ اس گروپ کا ملک کے شمالی حصوں پر کنٹرول ہے اور اسے انصار اللہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یمنی صحافیوں کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں اور تشدد کے خوف سے اخبارات از خود سنسرشپ کرنے لگے ہیں۔ مگر اس کے باوجود خوف اور دہشت کا یہ عالم ہے کہ کئی صحافی اپنا پیشہ ترک کر چکے ہیں۔

صنعا میں مقیم ایک صحافی ایصام القدسی نے فون پر بتایا کہ ایک صحافی برف کاٹتا ہے اور ایک کوڑا اکھٹا کرنے والی کمپنی میں کام کرتا ہے۔کچھ اتنے غریب ہیں کہ دوا علاج بھی نہیں کروا سکتے۔ القدسی کہتے ہیں کہ اس تشدد کی وجہ سے نہ صرف صحافت ختم ہوگئی ہے، بلکہ سچ کا گلا گھونٹ دیا گیا۔

سن دو ہزار پندرہ میں حوثیوں نے دارالحکومت پر قبضہ کر کیا تھا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت جنوب کی طرف بھاگ گئی۔ باغیوں نے چار نیوز ایجنسیوں کے دفاتر پر چھاپے مارے۔ کمیٹی ٹو پرٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق یمن میں صحافت کی پھلتی پھولتی صنعت تباہ ہو گئی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ ظلم و ستم بڑھتے چلے گئے۔ کئی اخبارات اور نیوز ایجینسیاں بند ہوگئیں۔

کمیٹی ٹو پرٹیکٹ جرنلسٹس کے ایک سینئر اہل کار، جسٹن شیلاڈ نے بتایا کہ پچھلے سال پریس پر حملے بڑھ گئے اور نامہ نگاروں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں جانب سے صحافیوں کو خطرات نے گھیر رکھا ہے یعنی شمال میں حوثی باغی اور جنوب میں حکومت اور ان کے اتحادی ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔

شیلاڈ کا کہنا ہے ان میں سب سے زیادہ چار صحافیوں کی سزائے موت ہے۔

یمنی جرنلست سینڈیکیٹ کا کہنا کہ پینتیس صحافی ہوائی حملے میں مارے گئے، ان میں وائس آف امریکہ کے نمائندے احمیگ داد موجالی بھی شامل ہیں۔

رپورٹرز ودھائوٹ بارڈرز نے پریس کی آزادی کے حوالے سے یمن کو بدترین ملکوں میں شامل کیا ہے۔ 180 ملکوں میں یمن کا شمار 167واں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG