رسائی کے لنکس

logo-print

صنعا میں حوثیوں کے زیر کنٹرول ہوائی اڈا کھولنے کی تجویز مسترد


یمن کی سعودی حمایت والی حکومت نے تجویز دی ہے کہ دارالحکومت صنعا میں حوثیوں کے زیر قبضہ ہوائی اڈا اِس شرط پر کھولا جا سکتا ہے کہ اس سے پہلے طیاروں کی عدن اور سیئون میں تلاشی لی جائے، جو حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ بات حکومت کے دو اہلکاروں نے بتائی ہے۔

اقوام متحدہ کے زیر سایہ سویڈن میں ہونے والی امن بات چیت میں حوثیوں نے یہ تجویز مسترد کی۔

مذاکرات کا مقصد اعتماد سازی کے اقدامات کو تقویت دینا ہے جن کے نتیجے میں جنگ بندی ہو سکے، اور سعودی قیادت والے اتحاد کی فضائی کارروائیاں اور سعودی شہروں پر حوثی حملے بند ہو سکیں۔

تاہم، چونکہ یہ بات چیت کا محض دوسرا روز ہے اور یہ مذاکرات 13 دسمبر تک جاری رہیں گے، دونوں فریق اقدام لینے کے لیے دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ لڑائی کے نتیجے میں انسانی جانوں کا بہت نقصان ہو رہا ہے، جب کہ رعایتوں کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز ہی وہ اس بات فیصلہ کریں گے آیا حکومت امن مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ ہے۔

باغیوں کے ایک ترجمان نے عربی زبان کے ایک ٹیلیوژن نیٹ ورک کو بتایا کہ ’’ہمیں دوسرے فریق کے ساتھ بات چیت میں کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم کل فیصلہ کریں گے آیا اسٹوک ہوم کے مذاکرات سنجیدہ ہیں یا نہیں‘‘۔

اقوام متحدہ کے زیر سایہ بات چیت کا آغاز جمعرات کے روز سویڈن میں اسٹاک ہوم کے شمال میں واقع ایک قصبے، رمبو میں ہوا۔
سال 2016کے بعد ایرانی پشت پناہی والے حوثی باغیوں اور سعودی حمایت والی یمنی حکومت کے درمیان یہ پہلے مذاکرات ہیں۔ ان کا مقصد چار سال پرانی لڑائی کا سیاسی حل تلاش کرنے کی جانب آگے بڑھنا ہے۔

جمعرات کو بات چیت کے پہلے روز مذاکرات سارا دن جاری رہے۔ بعد ازاں، اقوام متحدہ کے ایلچی، ماٹن گرفتھس نے بتایا کہ دونوں فریق قیدیوں کے تبادلے پر رضامند ہیں۔

گرفتھس نے کہا کہ ’’مجھے اس بات پر بھی خوشی ہے کہ قیدیوں کے تبادلے، زیر حراست یا لاپتا افراد، زبردستی زیر حراست افراد یا گھروں پر نظربند لوگوں کے تبادلے پر ہونے والے سمجھوتے پر دستخط کیے گئے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ اس سمجھوتے کے نتیجے میں، ’’ہزاروں خاندان دوبارہ اکٹھے ہوں گے۔ یہ دونوں وفود کی جانب سے کارآمد، انتہائی مؤثر اور متحرک کام کا نتیجہ ہے‘‘۔

گرفتھس نے دونوں فریق پر زور دیا کہ وہ ’’ایک دوسرے پر بھروسہ کریں۔۔۔ اور امن کا پیغام عام کریں‘‘۔

تاہم، سب سے بڑی رکاوٹ حدیدہ کی بندرگاہ کا شہر ہے، جہاں کے تمام لوگ کھانے اور انسانی ہمدردی کی نوعیت کی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

شہر کا کنٹرول باغیوں نے سنبھالا ہوا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے، جو حوثیوں کو یمن سے باہر نکالنا چاہتا ہے، کہا ہے کہ باغی گروپ کو ایرانی ساختہ ہتھیار اسی بندرگاہ سے موصول ہوتے ہیں، جس الزام کی ایران تردید کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG