رسائی کے لنکس

logo-print

یمن میں داعش کی شاخ نے مساجد پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی


حوثی قبائل کی دو مساجد پر کم از کم چار خودکش بمباروں نے اُس وقت حملہ کیا جب مسجد بدر اور مسجد الحشوش میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی، ان حملوں میں 350 افراد زخمی بھی ہوئے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں دو مساجد پر خودکش بم حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 137 ہو گئی ہے جب کہ لگ بھگ 350 افراد زخمی ہوئے۔

حوثی قبائل کی دو مساجد پر کم از کم چار خودکش بمباروں نے اُس وقت حملہ کیا جب مسجد بدر اور مسجد الحشوش میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔

عہدیداروں نے بتایا کہ خودکش بمباروں نے مساجد کے اندر اور باہر دھماکے کیے۔ مساجد کے اندر دھماکوں کے بعد باہر کھڑے خودکش بمباروں نے بچ نکلنے والے افراد کو نشانہ بنایا۔

حوثی قبائل کے کئی سرکردہ رہنما بھی اُن مساجد میں موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے بعد ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔

شدت پسند گروپ ’داعش‘ کی یمن شاخ نے ان بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی۔

اس گروپ کے شدت پسندوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے تیونس کے دارالحکومت کے قومی میوزیم پر حملے میں بھی یہ گروپ ملوث تھا۔

امریکہ کی طرف سے یمن میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔

امریکہ کی وزارت خارجہ نے تمام فریقوں سے سیاسی کشیدگی کے حل پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کی اور تمام فریقوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر ہر طرح کی پرتشدد کارروائی روکیں۔

حوثی قبائلی نے گزشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت صنعا کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا جب کہ رواں سال فروری میں حوثیوں نے پارلیمان کو تحلیل کر کے ملک میں حکومت قائم کرنے کے لیے ایک کونسل تشکیل دی تھی۔

XS
SM
MD
LG