رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: یوم علی پر 16 ہزار سیکورٹی اہلکار تعینات ہوں گے


ایک جانب دہشت گردی کے خلاف عسکری کارروائی جاری ہے تو دوسری جانب کراچی میں رینجرز کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے۔ شہر میں فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات عام ہیں۔ لہذا، سیکورٹی کے انتہائی غیر معمولی اور سخت انتظامات کئے جارہے ہیں

پاکستان میں آئندہ اتوار کو ’یوم علی‘ دینی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔ اس روز 21واں روزہ ہوگا اور اس دن کے حوالے سے ملک بھر کی طرح کراچی میں جلوس نکالے جائیں گے۔

ان جلوسوں اور مجالس کی سیکورٹی کے لئے حکومت سندھ نے سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے ہیں۔

چونکہ ایک جانب دہشت گردی کے خلاف عسکری آپریشن جاری ہے، اور دوسری جانب کراچی میں رینجرز کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھی آپریشن جاری ہے، جبکہ شہر میں فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات عام ہیں۔ لہذا، سیکورٹی کے بھی انتہائی غیر معمولی اور سخت انتظامات کئے جارہے ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کے مطابق، خصوصی سیکورٹی انتظامات کے تحت شہر میں پولیس کے 16 ہزار اہلکار سیکورٹی کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ اس روز موبائل فون سروس بھی عارضی طور پر بند رکھنے کی تجویز وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کر دی گئی ہے۔

سیکورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی عائد کر دی ہے۔

کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس اہل کار نے کہا کہ’یوم علی کے جلوس کے داخلی و خارجی راستے سیل کر دیئے جائیں گے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ، سراغ رساں کتے اور بلند عمارتوں پر شارپ شوٹر تعینات ہوں گے، جبکہ کیمرے والی 70 موبائل گاڑیاں بھی زیر استعمال ہوں گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ، ’یوم علی کے موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کی تجویز صوبائی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔‘

حکومت سندھ نے کراچی کے ساتھ ساتھ صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں بھی سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے ہیں۔ ان شہروں میں سکھر، میرپور خاص، حیدرآباد، لاڑکانہ اور خیرپور شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG