رسائی کے لنکس

افغان خاتون فوٹو گرافر کی تصویر کی واشنگٹن میں نمائش


شگوفہ الکوزی (فائل فوٹو)

شگوفہ جن کا تعلق افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار سے ہے۔ اُنھوں نے نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "بچے افغانستان کا مستقبل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میرے کام کا زیادہ تر محور وہ ہیں۔"

افغانستان کی 21 سالہ شگوفہ الکوزی ایک نہایت ہی قابل خاتون ہے، جنہوں نے اپنی تصاویر، نظموں اور بلاگ کے ذریعے افغانستان مین بچوں اور خواتین کی حالت زار کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

ان کی زندگی کا مقصد ہے کہ دنیا کے ایک غریب ملک میں بسنے والوں کی مشکلات، مسائل اور مصائب کو اجاگر کرنا ہے۔ اُن کا تعلق ایسے ملک سے ہے جہاں جنگ اور مذہبی انتہا پسندی کی مشکلات بھی ہیں اور اسکول جانے کی نسبت پیسے کمانے کو فوقیت دی جاتی ہے، اور جہاں خواتین معاشرتی اور سماجی مساوات کے لیے کوشاں ہیں۔

تاہم اب ان کی ایک تصویر نے نیشنل ایوارڈ حاصل کیا ہے اور اب اسے واشنگٹن کے سمتھسونئین کے عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

یہ ایک آٹھ سالہ بچے کی تصویر ہے جس کا نام پردیس ہے جو گاڑیاں دھونے کا کام کرتا ہے اور اس کی یہ تصویر کابل کی گلیوں میں اس کے کام کے وقفہ کے دوران بنائی گئی تھی۔

پردیس مشقت کے باوجود اس تصویر میں مسکراتا ہوا نظر آتا ہے۔

شگوفہ جن کا تعلق افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار سے ہے، نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "بچے افغانستان کا مستقبل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میرے کام کا زیادہ تر محور وہ ہیں۔"

"میں یہ سب کچھ ان بچوں کی زندگیوں میں ایک مثبت تبدیلی لانے کے لیے کر رہی ہوں۔"

یہ تصویر ایک ساتھ ماضی، حال اور ملک کے نامعلوم مستقبل کی کہانی بتاتی ہے۔ اس تصویر کے پس منظر میں افغانستان کے دو سابق بادشاہوں امان اللہ خان اور محمد ظاہر خان کے دور کی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔

سمتھسونئین کی نمائش میں شرکت کرنے کے لیے پردیس واشنگٹن آیا اور وہ توقع کرتا ہے اسے حاصل ہونے والی تھوڑی سی شہرت اس کی زندگی کو بہتر کرنے میں معاون ہو گی۔

پردیس نے کہا کہ "میں اسکول جانا چاہتا ہوں۔ اور (تعلیم مکمل کرنے کے بعد) پولیس افسر بننا چاہتا ہوں۔"

شگوفہ ہاتھ سے خاکے بنانے میں بھی مہارت رکھتی ہیں انہوں نے کئی کتابیں لکھی اور وہ اپنا بلاگ بھی شائع کرتی ہیں جس میں ان کا موضوع افغان خواتین اور بچے ہیں۔ ان کی ایک نظم نے خواتین کی تحریروں سے متعلق 'بلاگ ہر' کا 'وائس آف دی ائیر' ایوارڈ بھی جیتا ہے۔

وہ اپنی نظم میں کہتی ہیں "میں اپنے ملک کو دوبارہ خوشحال دیکھنا چاہتی ہوں، مسکراتے چہرے۔ خدا کرے یہ تمام تشدد، یہ روتی ہوئی مائیں اور یہ دھواں کے بادل ختم ہو جائیں۔"

"یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری آواز کو خاموش کرنا چاہتے ہیں۔ میرا دل ان مسائل، اس دہشت گردی کے بارے میں دیانت داری سے بتاتے ہوئے جلتا ہے۔"

XS
SM
MD
LG