رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کی ممکنہ واپسی سے خواتین خوف زدہ کیوں؟


افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو جہاں دنیا بھر میں خوش آئند سمجھا جارہا ہے، وہیں افغان خواتین طالبان کی واپسی کا سوچ کر ہی فکر مند ہیں اور انہیں انگنت خدشات کا سامنا ہے۔

افغان خواتین کو سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ پچھلے 20 سالوں میں انہوں نے جو کچھ حاصل کیا کہیں وہ ایک جھٹکے میں واپس نہ چلا جائے۔ طالبان خواتین کی ملازمتوں کے سخت مخالف تھے اور اسی سبب انہوں نے بے شمار خواتین کو گھروں تک محدود کر دیا تھا۔

افغانستان میں خواتین کے ایک ٹی وی چینل ’زن‘ میں کام کرنے والی تمام خواتین کے لیے طالبان دور کی یادیں بھی کچھ کم تکلیف دے نہیں ہیں۔

طالبان کے دور حکومت کے دوران خواتین کے بغیر برقع پہنے گھر سے نکلنے پر پابندی تھی۔ اگرچہ آج بھی بے شمار افغان خواتین ’شٹل کاک‘ نما برقع پہنتی ہیں۔

لیکن زن ٹی وی کے ڈائریکشن ڈپارٹمنٹ کی سربراہ شگوفہ صدیقی نے امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ کسی صورت بھی طالبان کے آگے ہتھیار نہیں ڈالیں گی۔

اُنہوں نے برقع کو خواتین کو درپیش دیرینہ چیلنجز میں سے ایک قرار دیا۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا کبھی خود بھی انہوں نے برقع پہنا ہے؟ اس پر شگوفہ کا کہنا تھا کہ قطعی نہیں۔ مجھے برقع پہننا کبھی بھی اچھا نہیں لگا۔

طالبان سے جڑے خدشات رکھنے والی بے شمار افغان خواتین اپنے ملک کے مستقبل کا تعین کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں آواز بلند کر رہی ہیں۔

افغانستان کی تقریباً دو تہائی آبادی 25 سال یا اس سے کچھ کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے ان میں سے بیشتر کو 2001 سے پہلے کا دور یاد نہیں۔

جہاں تک افغانستان میں خواتین کے حقوق کا تعلق ہے، اس بارے میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ اس کا فیصلہ افغانوں پر چھوڑ دیا جائے گا۔

یہ صورت حال 'زن' ٹی وی پر موسیقی کے پروگرامز پیش کرنے والی 23 سالہ کرشمہ ناز کے لیے بھی غیر یقینی اور پریشان کن ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر پہلے جیسے "سیاہ دن" واپس آتے ہیں تو وہ زبردستی گھر پر ہی رہیں گی یا ملک چھوڑ دیں گی۔

لیکن، تمام خواتین ایسا بھی نہیں کر سکتیں۔ کرشمہ ناز کا کہنا ہے کہ خواتین کے حقوق کی حفاظت کرنے کے لیے خواتین ہی آگے کیوں نہیں آتیں؟ اُن کا کہنا تھا کہ انہیں سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر طالبان واپس آئے تو کہیں ان کا کیرئیر ہی ختم نہ ہوجائے۔

آج کی افغان خواتین نہ صرف اسٹریٹ آرٹسٹ ہیں بلکہ وہ مختلف کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے سمیت سپریم کورٹ کی ممبر اور ٹیلی ویژن ٹیلنٹ شو کا بھی حصہ ہیں۔

نوجوان افغان خواتین نے ایک 'اولمپکس آرکیسٹرا' تشکیل دیا ہے اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔

ایک خاتون نے ملک کا پہلا یوگا اسٹوڈیو کھولا، ایک خاتون سرکاری فلم پروڈکشن کمپنی کی قیادت کرتی ہیں اور ایک خاتون نے رواں سال کے شروع میں اپنے راک بینڈ کے ساتھ کابل اسٹریٹ کنسرٹ کا انعقاد کیا تھا۔

افغانستان کے آئین کے تحت خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ لیکن یہ حقوق 2001 کے آس پاس ہی کہیں کھو گئے تھے۔

خواتین کو اب بھی قدامت پسند رشتہ داروں، برادری کے مردوں اور انجان افراد کے ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ خواتین پر تشدد کو جرم قرار دینے سے متعلق اب تک کوئی بل منظور نہیں ہوا ہے۔

طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں بہت کم تبدیلی آئی ہے، حالانکہ اب ان کا کہنا ہے کہ لڑکیاں آزادی سے تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ سیاست اور عدلیہ میں بھی ان کی ملازمت پر کوئی اعتراض نہیں تاہم کوئی خاتون صدر یا چیف جسٹس نہیں بن سکتی۔

ماسکو اور قطر میں رواں سال افغان معاشرے کے نمائندوں سے ملاقاتوں کے دوران طالبان رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کرنے والی چند خواتین میں سے ایک سابق قانون ساز فوزیہ کوفی ہیں۔ انہوں نے امن کی خاطر طالبان کی حکمرانی کی تلخ اور ناگوار یادوں کو ماضی میں دھکیل دیا ہے۔

طالبان کے نمائندوں نے خبر رساں ادارے 'اے پی' کو بتایا کہ انہیں ماضی میں پیش آنے والی بہت سی چیزوں پر پچھتاوا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس وقت عدم تحفظ کی وجہ سے خواتین کو گھروں تک محدود کردیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG