رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: نوجوانوں کے مسائل نوجوان ہی کریں گے حل


’سی پی ایل سی‘ کی جانب سے بنائے گئے ’یوتھ کمپلینٹ سیل‘ میں نوجوانوں کی تنظیم یوتھ پارلیمنٹ کے نوجوان ممبر بطور اسٹاف تعینات کئےجائیں گے، جہاں نوجوانوں کے مسائل کو باقاعدہ طور نوجوان طبقہ ہی حل کرنے میں معاونت کرے گا

کراچی: پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان ہی ہیں جو کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

موجودہ دور میں، جہاں ملک دیگر مسائل کا شکار ہے، وہیں نوجوان طبقے کو بھی روز مرہ کے کئی مسائل کا سامنا ہے۔

کراچی جیسے شہر میں جہاں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال عام شہری کیلئے ایک سنگین مسئلہ اختیار کرگئی ہے، وہاں مختلف نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنےوالے نوجوان بھی اس سے محفوظ نہیں۔ نوجوانوں کے انہی مسائل کے حل کیلئے سینٹرل پولیس کمیٹی کی جانب سے کراچی سمیت سندھ بھر کے نوجوانوں کیلئے ’یوتھ کمپلینٹ سیل‘ قائم کیا ہے۔

نوجوانوں کے شکایتی مرکز کے بارے میں، ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں، ’سی پی ایل سی‘ کے سربراہ، احمد چنائے کا کہنا تھا کہ ’ہمارے نوجوان آجکل بہت سے مسائل کا شکار ہیں، جس میں اکثر دھمکیوں اور بلیک میلنگ اور سائبر کرائم جیسے مسائل کا شکار ہوتے ہیں، جن کو حل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، ’ایک نوجوان جو مسائل میں گھرا ہے، اسکے مسئلے کو حل کرکے اسے وطن کی ترقی کی جانب لانا ضروری ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ، ’ہمارے نوجوان درپیش مسائل کے حل کے بعد ہی، اچھے شہری بن کر لوگوں کی خدمت کریں گے‘۔

نوجوانوں کی ہیلپ لائن سے متعلق تقریب کے دوران یوتھ پارلیمنٹ کے ممبر،علی رضا خان نے بتایا کہ، ’نوجوانوں کو بہتر طور پر تعلیمی آگہی دینا اور ان کے مستقبل کیلئے کیا صحیح ہے اور کیا غلط، یہ بتانا بہت ضروری ہے‘۔

اس یوتھ ہیلپ لائن میں یوتھ پارلیمنٹ کے نوجوانوں کا ایک کلیدی کردار شامل ہے، جسمیں نوجوانوں سے جڑے جرائم کے مسائل کے حل سمیت دیگر مسائل کےحل کیلئے بھی کام کیا جائے گا۔

نوجوانوں کی تنظیم کے ایک اور رکن، مرتضیٰ علی نے بتایا کہ، ’سی پی ایل سی کی جانب سے بنائے گئے یوتھ کمپلینٹ سیل کی بہترین بات یہ ہے کہ یہاں ایک نوجوان ہی نوجوان کا مسئلہ حل کرے گا‘۔ انھوں نے بتایا کہ، ’یوتھ پارلیمنٹ کے ممبرز کیلئے باقاعدہ ایک سیٹ اپ بنایا گیا ہے، جہاں آنے والی کالز سن کر ان کے مسائل کو حل کیا جائیگا‘۔

سی پی ایل سی کی جانب سے بنائے گئے ’یوتھ کمپلینٹ سیل‘ میں نوجوانوں کی تنظیم یوتھ پارلیمنٹ کے نوجوان ممبرز بطور اسٹاف تعینات کئےجائیں گے جہاں نوجوانوں کے مسائل کو باقاعدہ طور نوجوان طبقہ ہی حل کرنے میں معاونت کرے گا۔

سی پی ایل سی کے مطابق شہر میں جاری امن و امان کی مخدوش صورتحال کے باعث، ادارے کو روزانہ کی بنیاد ہیلپ لائن نمبر پر درجنوں شکایتی فون کالز وصول ہوتی ہیں، جن میں اسٹریٹ کرائمز، چوری و ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری جیسی وارداتوں کی شکایات شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG