رسائی کے لنکس

دھرنا، کارروائی اور مزید دھرنا؛ آئندہ کیا ہوگا؟

  • شہناز عزیز

مسلم لیگ نون کے راہنما، ظفر علی شاہ کہتے ہیں کہ ’’میرا ذاتی خیال ہے کہ متعلقہ شخص، جو ایک وفاقی وزیر ہے، شائد سبکدوش ہو جائے‘‘

دھرنے اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر اتوار کو وائس آف سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے راہنما اور نائب صدر ظفر علی شاہ نے کہا ہے کہ ’’ناموس رسالت کا مسئلہ بہت ہی حساس ہے اس لیے حکومت اس پر کوئی اقدام کرنے کی جرات نہیں کر رہی تھی‘‘۔

بقول ان کے، ’’اسے ڈر تھا کہ کوئی تشدد یا ’مس ہیپ‘ ہو گیا تو معاملہ اس کے گلے پڑے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ نے دیکھا کہ کل وہی بات ہوئی، جب دھرنا ختم کر نے کی کو شش کی گئی‘‘ ۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگلا قدم کیا ہوگا، ظفر علی شاہ نے کہا کہ ’’میرا ذاتی خیال ہے کہ متعلقہ شخص، جو ایک وفاقی وزیر ہے، شائد سبکدوش ہو جائے۔‘‘ بظاہر یہ اشارہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی جانب لگتا ہے۔

اسی بارے میں ’وی۔اے۔او‘ سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ جماعت اسلامی اور دیگر دینی جماعتیں، اصولی طور پر اس دھرنے کے پیچھے موجود موقف سے اتفاق کرتی ہیں‘‘۔

تاہم، بقول ان کے، ’’اس کے روح رواں، مولانا خادم حسین رضوی صاحب، ایسی زبان استعمال کرتے ہیں کہ کہ علماء ان کے قریب جانے سے کتراتے ہیں۔ لیکن ان کے مطالبے اور ان کی بات سے تمام دینی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے۔‘‘

انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے جو راستہ اختیار کیا اس میں کسی کو بھی شریک مشورہ نہیں کیا گیا۔

پروفیسر ابراہیم نے مزید کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ حکو مت اس مسئلے پر راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں قائم کی جاننے والی کمیٹی کی رپورٹ کو سامنے لائے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ رپورٹ سامنے لانے میں کیا قباحت ہے، مسلم لیگ نون کے سابق سینیٹر ظفر شاہ نے کہا ہے کہ انہیں اس کا علم تو نہیں کہ اس رپورٹ میں متعلقہ افراد کون ہیں یا کون ذمہ دار ہیں۔ لیکن، بقول ان کے ’’رپورٹ سامنے لانے میں جو قباحت ہے وہ یہ ہے کہ یہ اے۔بی۔سی جو بھی شخص ہے، اگر اس کا نام پتہ چل جاتا ہے تو کوئی موب (ہجوم) یا لوگ اس کو تشدد کرکے جان سے مار نہ دیں۔‘‘

ہفتہ کو وفاقی وزارت داخلہ نے امن و امان کو قائم رکھنے میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کیا تھا جو اسلام آباد میں حساس مقامات کی حفاظت پر مامور رہے گی۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز دفاعی تجزیہ نگار، سابق بریگیڈیر سید نذیر نے کہا کہ ظاہر ہے اس صورت میں فوج پورے ملک میں استعمال کی جائے گی اور اگر ایسا ہوا تو اس صورت میں اس وقت، موجودہ حکومت کے خلاف جو نفرت انگیز بیانات دئے جار ہے ہیں اور ان پر جو پر تشدد حملے ہو رہے ہیں وہ ظاہر ہے فوج پر بھی ہونگے اور اس صورت میں خون خرابہ ہوگا اور ’انارکی‘ پھیلے گی۔ اسی لئے، جنرل قمر جاوید باجوہ نے پر امن راستہ اختیار کر نے پر زور دیا ہے۔

تفصیل سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG