رسائی کے لنکس

logo-print

زاہدان حملے: تدفین میں ہزاروں کی شرکت


ہفتے کے روز ہزاروں سوگواروں نے ایران کے شہر زاہدان میں ہونےوالےدوخودکش بم دھماکوں میں ہلاک ہونےوالے افراد کی تدفین میں شرکت کی۔

یہ دھماکےجمعرات کو زاہدان کی مسجد کے باہر ہوئے جِن میں 27افراد ہلاک اور لگ بھگ 270زخمی ہوئے۔

تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ حملہ آوروں نے دانستہ طور پر عبادت گزاروں کو ہدف بنایا، جو پیغمرِ اسلام ٕمحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نواسے امام حسین (علیہ السلام) کے یومِ ولادت کی تقریب میں شریک تھے۔

جنداللہ نامی سنی انتہا پسند گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول کی ہے، اور پولیس کا کہنا ہے کہ ایسےافراد کی پکڑدھکڑ شروع کی گئی ہے جو حملوں کے بعد مشتبہ طور پر بے چینی پھیلانےکے مرتکب پائے گئے۔

ایران کے ‘فارس’خبر رساں ادارے نے ایک پولیس عہدے دار ، زاہدان پولیس کے نائب سربراہ احمد رضا ردان، کے حوالے سے خبر دی ہے کہ 40افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

چند ایرانی عہدے داروں نے زاہدان حملوں میں امریکہ کو ملوث بتایا ہے، اور تہران میں عہدے داروں نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ حکومت مخالف مہم میں جنداللہ کی اعانت کر رہا ہے۔ کچھ عہدے داروں نے برطانیہ، اسرائیل اور پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اِن حملوں میں اُن کا بھی ہاتھ ہے۔

صدر براک اوباما اور وزیرخ خارجہ ہلری کلنٹن دونوں نے جمعے کے روز اِن حملوں کی مذمت کی اور ذمہ داروں کا احتساب کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکی حکام نے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔

جنداللہ کا مطلب اللہ کے سپاہی ہے۔ اُس کا کہنا ہےکہ یہ حملےگذشتہ ماہ ایرانی حکومت کی طرف سےتنظیم کےشدت پسند لیڈر، عبد المالک ریگی کی پھانسی کا بدلہ لینے کے لیے کیے گئے ہیں۔ گروپ کا کہنا کہ وہ اپنی کاروائیاں جاری رکھے گا۔

XS
SM
MD
LG