رسائی کے لنکس

زینب قتل کیس کی 11 گھنٹے طویل سماعت، ملزم پر فردِ جرم عائد


لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے باہر پولیس اہلکار تعینات ہیں جہاں زینب قتل کیس کی سماعت ہورہی ہے۔
لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے باہر پولیس اہلکار تعینات ہیں جہاں زینب قتل کیس کی سماعت ہورہی ہے۔

مقدمے کی سماعت کرنے والی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج سجاد احمد نے صبح نو بجے سماعت شروع کی جو رات آٹھ بجے تک جاری رہی۔

زينب قتل کيس کی سماعت کرنے والی لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ملزم عمران علی پر فردِ جرم عائد کردی ہے۔

لاہور میں قائم کوٹ لکھ پت جیل میں زینب قتل کیس کے مقدمے کی سماعت کا آغاز پیر کو ہوا۔

مقدمے کی سماعت کرنے والی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج سجاد احمد نے صبح نو بجے سماعت شروع کی جو رات آٹھ بجے تک جاری رہی۔

سماعت کے دوران قصور کی رہائشی ساڑھے چھ سالہ زینب کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے ملزم عمران علی پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

گيارہ گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت میں ڈپٹی پراسیکیوٹر پنجاب عبدالرؤف نے ملزم پر جرح کی۔

کیس کی سماعت کے بعد ڈپٹی پراسيکيوٹر نے صحافیوں کو بتایا کہ سماعت کے دوران استغاثہ کے 20 گواہوں کے بيان قلم بند کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی این اے، فرانزک شواہد اور ماڈرن ڈیوائسز کی بنیاد پر ملزم کو سزا دی جا سکتی ہے کیوں کہ سپریم کورٹ نے ان شواہد کو ضروری اور قابلِ تسلیم قرار دے رکھا ہے۔

پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اشرف طاہر کے مطابق زينب کيس ميں انہوں نے مکمل چھان بین کے ساتھ ملزم کی شناخت کی ہے اور ملنے والے شواہد کسی اور شخص کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے بتایا کہ زینب قتل کیس میں ملزم کی شناخت اس کے کپڑوں سے ہوئی ہے۔ ڈي اين اے کا نمونہ کپڑوں سے ليا گيا تھا۔

لاہور ہائي کورٹ نے ماتحت عدالت کو زينب کيس کا ٹرائل سات دن ميں مکمل کرنے کي ہدايت کر رکھي ہے۔

چھ سالہ معصوم بچی زینب کو چار جنوری کو قصور سے اغوا کیا گیا تھا جس کے پانچ روز بعد اس کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ لاش کے پوسٹ مارٹم سے پتا چلا تھا کہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔

پولیس نے کئی ہفتوں کی محنت کے بعد ڈی این اے کی مدد سے بچی کے محلے دار عمران علی کو حراست میں لیا تھا جو پولیس ریکارڈ کے مطابق اس سے قبل بھی قصور میں معصوم بچیوں کے اغوا اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد ان کے قتل کا ارتکاب کرچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG