رسائی کے لنکس

logo-print

زکی برزنجی وائٹ ہاؤس کی طرف سے مسلم برادری کے رابطہ کار مقرر


اپنی نئی ذمہ داریوں کے تحت وہ امریکہ کے مسلمانوں کے علاوہ ہندو، بدھ مت اور سکھ برادریوں سے بھی رابطہ کاری کریں گے تاکہ ان تمام مذہبی برادریوں کی وفاقی سطح پر نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں زکی برزنجی کو امریکی مسلمان برادری کا رابطہ کار مقرر کیا ہے۔ اگرچہ ان کی عمر صرف 27 برس ہے مگر عام لوگوں سے رابطوں اور انسداد انتہا پسندی کے لیے ان کا کام انتہائی متاثر کن ہے۔

اس سے قبل وہ ورجینیا کے گورنر ٹیری میک آؤلف کے انٹرگورنمنٹل افیئرز کے دفتر میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

اپنی نئی ذمہ داریوں کے تحت وہ امریکہ کے مسلمانوں کے علاوہ ہندو، بدھ مت اور سکھ برادریوں سے بھی رابطہ کاری کریں گے تاکہ ان تمام مذہبی برادریوں کی وفاقی سطح پر نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

آن لائن اخبار ’ہفنگٹن پوسٹ‘ کو دیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نئی ذمہ داریوں میں انہیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی کام کرنا ہو گا کہ ان برادریوں کے بارے میں قومی مکالمہ متعصبانہ نہ ہو۔

2009 میں روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں چھپنے والے ایک مضمون میں زکی برزنجی نے امریکہ کی مسلم برادری میں انتہا پسندی کو روکنے اور اس سے مؤثر رابطہ سازی کے لیے انٹرنیٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔

اس کے بعد سے اب تک وہ پالیسی سازی اور شہری رابطہ کاری کے ذریعے پسماندہ اقلیتی گروہوں کو آگے لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG