رسائی کے لنکس

طالبان سے تصفیے کی منظوری لویہ جرگہ دے گا: اشرف غنی


افغان صدر کے مطابق بین الافغان مذاکرات ایک طویل مرحلہ ہے، البتہ وہ ملک میں امن چاہتے ہیں۔ (فائل فوٹو)

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات ایک طویل مرحلہ ہے۔ اس کے بعد طالبان کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے کی منظوری لویہ جرگہ دے گا۔

جمعرات کو کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہا کہ بین الافغان مذاکرات میں افغان حکومت کا نمائندہ وفد شرکت کرے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ وفد افغان عوام کی خواہشات اور اُمنگوں کی ترجمانی کرے گا۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ امن کا قیام اُن کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

صدارتی ترجمان فاضل محمد فضلی نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی میں پانچ ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ طالبان قیدیوں کی رہائی مشروط ہے۔

افغان مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ تشدد میں کمی سے مشروط ہے۔

افغان صدر کے مشیر کا کہنا ہے کہ 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی میں پانچ ماہ لگ سکتے ہیں۔
افغان صدر کے مشیر کا کہنا ہے کہ 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی میں پانچ ماہ لگ سکتے ہیں۔

لویہ جرگہ کیا ہے؟

افغانستان کے سیاسی اور قبائلی رہنماؤں کے مشترکہ اجلاس کو لویہ جرگہ کہتے ہیں۔ اس کی تاریخ سیکڑوں سال پرانی ہے۔ لویہ جرگہ میں پشتونوں سمیت افغانستان کے مختلف طبقات کے نمائندہ افراد شریک ہوتے ہیں۔

لویہ جرگہ میں ملکی سطح کے اہم فیصلوں کی منظوری دی جاتی ہے۔ البتہ ماضی میں طالبان لویہ جرگہ کے بعض فیصلوں سے اختلاف کرتے ہوئے اس کے وجود کو غیر قانونی بھی قرار دیتے رہے ہیں۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو طے پانے والے امن معاہدے کے بعد قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر ابہام موجود تھا۔ صدر اشرف غنی نے ایک بیان دیا تھا کہ وہ طالبان قیدیوں کی رہائی کے پابند نہیں ہیں۔

البتہ امریکی مداخلت کے بعد افغان حکومت طالبان قیدیوں کی رہائی پر رضا مند ہوئی تھی۔ امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے ٹوئٹ کی تھی کہ صدر اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے قیدیوں کی فہرست حوالے کر دی گئی ہے۔ طالبان نے بھی ایک ہزار قیدیوں کو چھوڑنے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔

معاہدے کے بعد افغانستان میں تشدد کے واقعات کے بعد یہ معاہدہ کھٹائی میں پڑ گیا تھا۔ البتہ فریقین کا اصرار رہا ہے کہ وہ معاہدے پر کاربند ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG