رسائی کے لنکس

logo-print

کیا امریکہ، افغان امن عمل میں پیش رفت نہ ہونے پر مایوس ہو رہا ہے؟


امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے امن عمل میں پیش رفت نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے ایک بار پھر افغان حکومت اور طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد میں کمی لا کر افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کسی معاہدے پر متفق ہو جائیں۔

امریکی سفارت کار خلیل زاد نے منگل کو قطر روانگی سے قبل ایک ٹوئٹ میں افغان فریقوں پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے اس موقع سے فائدہ اُٹھائیں کیوں کہ سیاسی تصفیے کے حصول کا دروازہ ہمیشہ کھلا نہیں رہے گا۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ نے بھی حال ہی میں کہا ہے کہ گزشتہ ماہ دوحہ میں بین الافغان مذاکرات شروع ہونے کے بعد افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ تشویش ناک ہے۔

امریکی سفارت کار خلیل زاد نے بھی افغانستان میں تشدد میں کمی نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق خلیل زاد دوحہ میں قیام کے دوران افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات کاروں پر زور دیں گے کہ وہ ایک ایسے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق کریں جس کے نتیجے میں افغانستان میں عشروں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔

زلمے خلیل زاد نے اپنی ٹوئٹس میں کہا کہ وہ مایوسی کے عالم میں خطے کا دوبارہ دورہ کر رہے ہیں کیوں کہ تشدد کم کرنے کے وعدوں کے باوجود اس میں کمی نہیں آئی۔

اُن کے بقول سیاسی تصفیے کے حصول کا دروازہ ہمیشہ کھلا نہیں رہے گا۔

خلیل زاد نے کہا کہ بہت زیادہ تعداد میں افغان مر رہے ہیں اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے اپنے ناجائز مقاصد کے لیے افغان شہریوں کو توپ کے ایندھن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اب خون ریزی رکنی چاہیے۔

یادر ہے کہ 12 ستمبر سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بین الافغان مذاکرات کے تحت ابتدائی بات چیت کا عمل جاری لیکن ابھی تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔

تاہم خلیل زاد کا کہنا ہے کہ فریقین کو بین الافغان مذاکرات کے طریقۂ کار پر وقت صرف کرنے کی بجائے ٹھوس بات چیت کی طرف بڑھنا ہو گا۔

افغان اُمور کے تجزیہ کار طاہر خان کا کہنا ہے کہ دوحہ میں جاری ابتدائی بات چیت میں کسی پیش رفت کا نہ ہونا امریکی سفارت کار کے لیے بھی تشویش کی بات ہے۔

طاہر خان کے بقول امریکی سفارت کار کی مایوسی کی ایک وجہ یہ ہے کہ اُنہیں توقع نہیں تھی کہ فریقین مذاکرات کا طریقۂ کار طے کرنے میں ہی اتنا وقت لیں گے یہی وجہ ہے کہ ڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

افغانستان میں تشدد کیوں بڑھ رہا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:03 0:00

طاہر خان کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت کار خلیل زاد نے نام لیے بغیر بعض علاقائی ممالک کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا کہ وہ اپنے مفادات کے لیے افغانستان کے امن عمل کو داؤ پر لگا رہے۔

دوسری طرف پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کو افغان ہم منصب حنیف اتمر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے افغان امن عمل، افغان مہاجرین کی واپسی اور علاقائی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG