رسائی کے لنکس

طالبان کا افغانستان سے کرسمس تک امریکی فورسز کی واپسی کے منصوبے کا خیرمقدم


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ رواں برس کرسمس تک امریکہ کی تمام فوج افغانستان سے واپس اپنے ملک آ جانی چاہیے۔ طالبان نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جب کہ افغان حکومت نے فی الحال کوئی ردِ عمل نہیں دیا۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے ایک مختصر ٹوئٹ میں کہا کہ "ہمیں افغانستان میں تھوڑی تعداد میں خدمات انجام دینے والے اپنے بہادر مرد اور خواتین کو کرسمس تک واپس اپنے گھر بلا لینا چاہیے۔"

صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ سے یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ وہ یہ حکم دے رہے تھے یا اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کر رہے تھے۔

صدر ٹرمپ کی یہ ٹوئٹ ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے چند گھنٹے قبل ہی کہا تھا کہ امریکہ آئندہ برس کے اوائل تک افغانستان میں اپنی فوجیوں کی تعداد 2500 تک گھٹا دے گا۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے لاس ویگاس میں یونی ورسٹی آف نیواڈا میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ افغانستان میں امریکہ کے پانچ ہزار سے کم فوجی تعینات ہیں جنہیں اگلے برس کے اوائل میں گھٹا کر 2500 سے کم کر دیا جائے گا۔

ان کے بقول، "افغانستان میں قیامِ امن کے لیے افغان ہی کسی معاہدے پر پہنچیں گے اور یہ امن معاہدہ ہو گا۔ تاہم یہ ایک طویل اور کٹھن عمل ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لازمی قدم ہے۔"

طالبان نے صدر ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا امریکہ۔طالبان امن معاہدے کے حوالے سے ایک مثبت قدم ہو گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے گی۔

یاد رہے کہ رواں برس فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا جس میں طالبان کے دہشت گردی کی روک تھام کی یقین دہانیوں کے بدلے امریکہ نے افغانستان سے اپنی افواج مئی 2021 تک واپس بلانے کا کہا تھا۔

طالبان نے اس کے بدلے مستقل جنگ بندی اور افغان حکومت کے ساتھ شراکتِ اقتدار کا فارمولا طے کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ امریکہ نومبر تک افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد 4 سے 5 ہزار تک کر لے گا۔ اس سے کم تعداد کرنے کا فیصلہ افغانستان کے حالات پر منحصر ہوگا۔

اگرچہ اب بھی عراق، شام اور افغانستان میں امریکہ کے ہزاروں فوجی موجود ہیں۔ لیکن امریکہ کی 'نہ ختم ہونے والی' جنگوں کا خاتمہ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔

'گزشتہ چھ ماہ میں کارروائیاں مقامی فورسز نے کی ہیں'

دوسری جانب افغانستان کی حکومت نے صدر ٹرمپ کے بیان پر فی الحال کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ البتہ افغان وزیرِ دفاع نے صدر ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیے بغیر کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہونے والی تمام فوجی کارروائیاں افغان افواج نے کی ہیں۔

افغان فوج کے سربراہ جنرل یاسین ضیا نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی مسلح افواج ملک سے دشمنوں کو ختم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔

افغانستان کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا افغانستان سے فوجی انخلا سے متعلق بیان ان کی انتخابی مہم کا حصہ ہے۔

ناروے میں افغانستان کی سابق سفیر شکریہ بارکزئی کہتی ہیں کہ امریکی حکومت کا افغانستان کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ ہے اور فوجی انخلا اسی معاہدے کے مطابق ہو گا۔

انہوں نے افغان حکومت اور طالبان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ سے سبق حاصل کریں اور قیام امن کی کامیابی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کریں۔

افغانستان کے دفاعی تجزیہ کار جنرل عتیق اللہ امرخیل کا کہنا ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی فوجیں کسی دوسرے ملک میں ہمیشہ کے لیے موجود نہیں رہ سکتیں۔

اُن کے بقول افغانستان میں طالبان کے علاوہ دیگر دہشت گرد تنظیمیں بھی سرگرم ہیں۔ امریکی افواج کو ذمہ دارانہ انداز میں انخلا کی ضرورت ہے۔

امریکی نمائندہ خصوصی خلیل زاد کی جنرل باجوہ سے ملاقات، افغان امن عمل پر تبادلہ خیال

اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے جلیل اختر نے بتایا ہے کہ ایک اور پیش رفت میں افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں نیٹو ریزولیوٹ اسپورٹ مشن کے سر براہ جنرل اسکاٹ ملر نے جمعرات کو راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاود باجوہ سے ملاقات کی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے میں امن و سلامتی، پاک افغان سرحد کا انتطام کار اور افغان امن عمل میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے بارے میں تبادلہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق بھی موجود تھے۔ ملاقات میں امریکی عہدیداروں نے افغان امن عمل میں پاکستان کے مثبت کردارا کو سراہا۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 8 اکتوبر کو جنرل ملر کے ہمراہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی فوج کی قیادت سے ہونے والی ملاقات میں سفیر خلیل زاد نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے پر وزیر اعطم عمران خان اور جنرل باجوہ کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر سفیر خلیل زاد اور جنرل باجوہ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ بین الافغان مذاکرات افغانستان اور خطے میں امن کے حصول کا ایک تاریخی موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ماضی کو غلطیوں کو دہرایا جانا چاہیے۔

اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان کے آئندہ دورہ افغانستان اور افغانستان میں امن معاہدہ طے پانے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے روڈ میپ کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی سفارت خانے کے بیان کے مطابق اس موقع پر سیفر خلیل زاد، جنرل ملر اور جنرل باجوہ نے ایک ایسے وقت میں افغانستان میں تشدد میں نمایاں کمی کی ضرورت کا اعادہ کیا جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG