رسائی کے لنکس

دہشت گردی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے: صدر زرداری


صدر آصف علی زرداری ملک کی تاریخ کے پہلے سربراہ مملکت ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے مسلسل چھ بار خطاب کیا ہے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پیر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا اور وہ ملک کی تاریخ کے پہلے سربراہ مملکت ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے مسلسل چھ بار خطاب کیا۔

پاکستان کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ توانائی کے بحران اور شدت پسندی میں اضافے نے اقتصادی مشکلات کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ان مسائل کا حل مل کر تلاش کرنا چاہیئے۔

صدر زرداری نے کہا کہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور قوم شدت پسندی کے خلاف یکجا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مضبوط قیادت کی ضرورت ہے اور وہ لوگ جو تشدد کی راہ ترک کرنے پر آمادہ ہیں ہم اُن کے ساتھ امن کی خاطر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔

صدر زرداری نے کہا کہ آج کے پاکستان میں کسی آمر کی کوئی جگہ نہیں اور اس ضمن میں اُن لوگوں کا عزم و حوصلہ قابل ستائش ہے جنہوں نے ووٹ کے ذریعے اپنی رائے دی اور اُن کی آواز سنی گئی جس کی وجہ سے انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ عوام نے مشترکہ طور پر ملکی تاریخ میں ایک باب رقم کیا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

صدر زرداری نے نو منتخب وزیراعظم نواز شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عوام اور پارلیمنٹ نے اعتماد کا اظہار کر کے اُن کو اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ صدر پاکستان نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ نئی حکومت اور وزیراعظم عوام کی توقعات پر پورا اُتریں گے۔

اُنھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس قانون کو ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روکا جا سکے۔

پاکستانی صدر نے کہا کہ انا پرستی اور عدم برداشت کے رویے کو پس پشت ڈال کر بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے آئین اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کے نئے عزم کا وقت ہے۔

’’ریاست کے تمام اداروں کو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا چاہیئے، آگے بڑھنے کے لیے مصالحت کی ضرورت ہے نا کہ ایک دوسرے اُلجھنے کی۔ اب سیاسی قوتوں کو ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہونے کی بجائے تعاون کرنا چاہیئے۔‘‘

پاکستانی صدر نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ حکومت کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے اپنی سرزمین ہر گز استعمال نہیں ہونے دے گی۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ کسی کو پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کی خلاف ورزی کی اجازت بھی ہر گز نہیں دی جا سکتی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور یورپ کے ساتھ تعلقات کا اہمیت کو سمجھتا ہے تاہم مشترکہ مفادات اور ایک دوسرے کی خود مختاری کے احترام کے لیے تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور ان سے نا صرف دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو نقصان ہو رہا ہے بلکہ یہ کسی طور پر قابل قبول بھی نہیں ہیں۔

اُنھوں نے پڑوسی ممالک خاص طور پر چین اور افغانستان سے پاکستان کے تعلقات کی اہمیت کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ اُن کا ملک بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتا ہے۔

اس سے قبل صدر زرداری پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے پانچ مرتبہ خطاب کر چکے ہیں۔ پیر کو اُن کے خطاب کے موقع پر مسلح افواج کے سربراہان، صوبائی وزرائے اعلٰی اور غیر ملکی سفیروں سمیت کئی دیگر اہم شخصیات بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تھیں۔

صدر کے خطاب کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اس دوران فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔
XS
SM
MD
LG