رسائی کے لنکس

logo-print

’کردار کشی بند کی جائے، ہم نے کی تو سلسلہ طویل ہوجائے گا‘: زرداری


’کچھ لوگ میری مفاہمت کی سیاست کو میری غلطی سمجھتے ہیں۔ ہمیں صدارات یا وزارت کا شوق ہوتا تو 2013 ءکے آر اوز الیکشن کے خلاف ہم بھی تحریک انصاف کے ساتھ استعفے دے دیتے‘

پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے الزام لگایا ہے کہ کئی ماہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔

بقول اُن کے، ’اگر اب یہ بند نہ ہوئی اور ہم نے کردار کشی شروع کی تو یہ سلسلہ بہت طویل ہوجائے گا‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر ہم نے سب کا کچا چٹھا کھول دیا اور ہم کھڑے ہوگئے تو کراچی سے خیبر تک سب کچھ بند ہوجائے گا۔ لیکن، ہم طاقت پر یقین نہیں رکھتے عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر سخت الفاظ میں کہا کہ ’آپ کو تو تین سال رہنا ہے، پھر چلے جانا ہے۔ لیکن، ہم نے یہیں رہنا ہے۔ تنگ کرنے کی کوشش کی گئی تو اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔‘

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے منگل کو اسلام آباد میں فاٹا اور خیبر پختونخوا کے عہدیداروں سے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ’ہمارے متعلق یہ نہ سمجھا جائے کہ پیپلز پارٹی کمزور ہوگئی۔ دراصل ابھی باہر نکلنے کا وقت نہیں آیا، ہم سیاسی گیم دیکھ کر ہی چال چلیں گے۔‘

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’جنہوں نے جیل کا گرم پانی نہیں پیا، انہیں جمہوریت کی کیا قدر ہو سکتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جمہوریت چلے اور اس کی جڑیں مضبوط ہوں، کیونکہ جمہوریت کی قدر انہی کو ہوسکتی ہے جنہوں نے گھر سے اپنوں کے جنازے اٹھائے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ ادارے کمزور ہوں۔ کچھ لوگ پاور پولیٹیکس کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں کھیلنے دیا جائے اور پاور انجوائے کرنے دیا جائے، یہ ملکی معیشت کو درست کریں تو سر آنکھوں پر ہوں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا اور تمام پارٹیوں کو ساتھ رکھا۔ ’لیکن، کچھ لوگ میری مفاہمت کی سیاست کو میری غلطی سمجھتے ہیں۔ ہمیں صدارت یا وزارت کا شوق ہوتا تو 2013 کے آر اوز الیکشن کے خلاف ہم بھی تحریک انصاف کے ساتھ استعفے دے دیتے۔ اسی وقت الیکشن ہوجاتے۔ لیکن، میں ن لیگ کے ساتھ کھڑا رہا، تاکہ کل کو وہ یہ نہ بولیں کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا اور دو سال میں ہی ہماری حکومت ختم کردی گئی‘۔

XS
SM
MD
LG