رسائی کے لنکس

logo-print

کیا بالی وڈ میں خانوں کا وقت ’’زیرو‘‘ ہو چکا ہے؟


Screen Capture of Zero

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ یہ وہ احساس ہے جو اس فلم کے آخری سین کو دیکھ کر ہوتا ہے کہ بالی وڈ کی مریخ کے موضوع پر بننے والی پہلی فلم آنے والی ہے. لیکن زیرو کو ملنے والے ریویوز اور اس پر لوگوں کے منفی ردعمل کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے اب یہ خواب شاید شرمندہ تعبیر نا ہو، یعنی ’’زیرو‘‘ کا کوئی سیکیوئل نہ بنے۔

بہر حال بالی وڈ کے کنگ خان، شاہ رخ خان کی تازہ ترین فلم ’’زیرو‘‘ دیکھنے کے لیے پہلے دن کے آخری شو میں پہنچا کیونکہ ورکنگ ڈے تھا۔ کام کے بعد واشنگٹن شہر سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر واقع سینما میں کچھ دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے کا پروگرام تھا۔ فلم کے بارے میں تبصرے اسی دن ہی یعنی اکیس دسمبر کو نکلے جو نہایت منفی تھے۔ کئی نقادوں نے فلم کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے شاہ رخ کی پچھلے چھے سال سے چلی آرہی ناکام فلموں کی طویل فہرست میں شامل کردیا۔ اسی لیے فلم سے کچھ زیادہ امیدیں نہیں تھیں۔ لیکن سینما ہال تقریبا بھرا ہوا تھا۔ کیونکہ امریکہ میں شاہ رخ کے چاہنے والے بڑی تعداد میں ہیں۔ فلم ہال میں موجود لوگوں کے شور اور جوش و خروش کے ساتھ شروع ہوئی لیکن ختم ہوتے ہوتے لوگوں کا جوش ماند پڑ چکا تھا کیونکہ فلم دو گھنٹے چوالیس منٹ طویل تھی۔

پہلا حصہ بھارت کے شہر میرٹھ میں فلمایا گیا ہے۔ جہاں شاہ رخ خان نے ساڑھے چار فٹ کے ایک بونے ’’بوا سنگھ ‘‘ کا کردار بھرپور طریقہ سے ادا کیا، ایسے کہ آپ کو اس پر ترس نہیں آتا بلکے آپ اسکے لطیفوں پر اسکے ساتھ ہنستے ہیں۔ پہلے ایک گھنٹے میں کہانی تیزی سے آگے بڑھتی ہے۔ بوا سنگھ کو شادی کروانی ہے لیکن اسے عافیہ یوسفزئی بِھنڈر (یوسفزئی بِھنڈر کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ جاننے کےلیے فلم دیکھیں) نامی ایک سائنسدان پسند آجاتی ہے جو خود تو معذور ہے لیکن انسان کو مریخ تک لی جانے کی کوشش میں ہے۔ اب ایک ان پڑھ بونا ایک سائنسدان کو کیسے اپنی محبت کے جال میں پھنساتا ہے یہ آپ کو فلم دیکھ کر پتہ چلے گا۔ لیکن عین شادی کے دن بوا سنگھ بھاگ کر بالی وڈ کی ایک ہیروئن ’’ببیتا کماری‘‘ کا کانسرٹ دیکھنے چلا جاتا ہے اور پھر واپس نہیں آتا۔ بالی وڈ کی فلموں کا شیدائی بوا سنگھ پھر ببیتا کے ساتھ ہی رہنا شروع کردیتا ہے لیکن جب ببیتا اس کو چھوڑ دیتی ہے تو بوا سنگھ کو عافیہ یوسفزئی یاد آتی ہے۔ اور پھر کہانی میرٹھ سے ممبئ ، ممبئی سے نیو یارک اور نیویارک سے فلوریڈا میں خلائی تسخیر کے ایک ادارے تک ایسے پہنچتی ہے کہ دیکھنے والے پریشان اور حیران ہوجاتے ہیں۔ لیکن رکیے، ابھی تو بوا سنگھ مریخ تک بھی پہنچیں گے۔ کیسے؟ اس کے لیے آپ کو فلم دیکھنی پڑے گی۔

اداکاری کی بات کریں تو انوشکا شرما نے عافیہ یوسفزئی بھنڈر کا کردار ادا کیا ہے جو ٹانگوں سے معذور اور بولنے میں مشکلات کا شکار ایک سائنسدان کے روپ میں ڈھل گئی ہیں۔ شاہ رخ خان نے ایک دل پھینک بونے کا کردار اپنے روایتی انداز میں نبھایا ہے۔ فلم میں ببیتا کماری کے کردار میں کترینہ کیف نے حیران کر دیا۔ شاہ رخ خان کے دوست کے کردار میں محمد ذیشان ایوب کے پاس نہایت اچھے ڈائیلاگ تھے لیکن وہ گزشتہ چار پانچ فلموں میں ایسے ہی کردار ادا کرتے آئے ہیں شاید اس لیے ایسے لگا جیسے ان کا کردار زبردستی فلم میں ڈالا گیا ہے جس کے بغیر فلم کی کہانی میں کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔ باقی کردار نہایت چھوٹے ہیں جن میں سلمان خان، دیپیکا پادوکون، جوہی چاولہ، مادھاوان، ابھے دیول، کرشمہ کپور، عالیہ بھٹ اور سری دیوی جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔ اگر یہ سب فلم میں نہ ہوتے تو فلم کا دورانیہ کم از کم ایک گھنٹہ کم ہوسکتا تھا۔

ڈائریکٹر آنند ایل رائے ’’تنو ویڈز منو‘‘ پارٹ ون اور ٹو اور ’’رانجھنا‘‘ جیسی نہایت کامیاب فلمیں دے چکے ہیں۔ ان کی کہانیوں کا خاصہ چھوٹے شہروں کی ثقافت کو دکھانا اور ان میں جنم لینے والی کہانیوں کو بیان کرنا ہے۔ ان کی پچھلی تین فلمیں بلاک بسٹر کامیاب رہی ہیں۔

امن کے لیے نوبل انعام یافتہ پاکستانی ایکٹیویسٹ ملالہ یوسفزئی نے بھی فلم کو دیکھا اور سراہا ہے اور ان کاکہنا ہے کہ انھیں اور ان کے خاندان کو فلم بہت پسند آئی ہے۔

لیکن فلم ناقدین 'زیرو' سے متاثر نہیں ہوئے، اور ایک سوال جو پوچھا جا رہا ہے کہ کیا بالی وڈ میں خانوں کا وقت پورا ہو چکا ہے؟ کیونکہ فلم کئی سال کی محنت کے بعد دو سو کروڑ کے خطیر بجٹ میں بنی ہے۔ پہلے تین دنوں میں محض انسٹھ کروڑ روپے کمانے والی یہ فلم اسی سال آنے والی سلمان خان کی ’’ریس تھری‘‘ اور عامر خان کی ’’تھگس آف ہندوستان‘‘ کی طرح اپنے بجٹ سے آدھے پیسے بھی نا بنا پائی۔

ناقدین اور فلم بینوں کی رائے میں 'زیرو' محض ایک بار دیکھی جاسکتی ہے وہ بھی صرف شاہ رخ خان کی چاہت میں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG