رسائی کے لنکس

logo-print

زمبابوے سے ہیروں کی برآمد بند کرنے پر زور


ہیرے کی ایک کان میں مصروف کان کن

انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے زمبانوے سے ہیروں کی برآمد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے پیر کے روز کہا ہے کہ اب جب کہ زمبابوے میں ہیروں کے ذخائر والے علاقے میں تشدد کی کارروائیاں کم ہوچکی ہیں، پولیس اور فوج کی طرف سے زیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ہیروں کی عالمی تجارت کی نگرانی کرنے والے ادارے کمبرلے پراسس سے کی جانے والی درخواست میں ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ مارینج ڈائمنڈ فیلڈ کے وسیع علاقے پر فوج کا قبضہ ہے اور وہ بڑے پیمانے پر اسمگلنگ میں ملوث ہے ۔ مزید برآں تنظیم کاکہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے ہیروں کی تجارت سے حاصل ہونے والا سرمایہ سیاسی تشدد کے لیے استعمال ہورہا ہے۔

حکومت نے ہیومن رائٹس واچ کے اس بیان پر ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

کمبرلے پراسس نے زمبابوے سے ہیروں کی درآمد پر گذشتہ سال پابندی لگائی تھی لیکن رواں سال جولائی میں اسے محدود پیمانے پر برآمد کی اجازت دے دی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG