عدیل الرحمان کے لیے ’رابرٹ ایف کینیڈی‘ ایوارڈ کا اعزاز

عدیل الرحمان خان بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے محافظ اور وکیل ہیں، جنہوں نے قومی سطح پر بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے محافظوں کا جال بچھا رکھا ہے۔ اُنھیں واشنگٹن میں منعقدہ تقریب میں یہ ایوارڈ دیا گیا

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے وکیل عدیل الرحمان خان کو رابرٹ ایف کینیڈی ایوارڈ برائے انسانی حقوق سے نوازا گیا۔

عدیل الرحمان خان کو یہ ایوارڈ واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں بنگلہ دیش میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے پردہ اٹھانے کی باہمت کاوشوں کے اعتراف پر دیا گیا۔


عدیل الرحمان خان بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے محافظ اور وکیل ہیں، جنہوں نے قومی سطح پر بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے محافظوں کا جال بچھا رکھا ہے۔

وہ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی تنظیم ’اودھیکر‘ کے سیکریٹری کی حیثیت سےفرائض سر انجام دیتے ہیں۔ یہ تنظیم تشدد، آزادی ِاظہار رائے پر پابندی، حفاظتی فورسز کی بدسلوکی، غیر قانونی ہلاکتیں، خواتین کے خلاف زیادتی اور ووٹرز پر غیر قانونی دباؤ جیسے معاملات پر نظر رکھتی ہے۔

عدیل الرحمان خان نے بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی اور بیلجئیم کی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔

اُنھیں رابرٹ ایف کینیڈی ایوارڈ برائے انسانی حقوق کے لیے 70 نامزد افراد کی فہرست میں سے منتخب کیا گیا۔

رابرٹ ایف کینیڈی ایوارڈ کی تقریب سے خطاب میں، عدیل الرحمان خان کا کہنا تھا کہ، ’میں رابرٹ ایف کینیڈی سینٹر برائے انصاف اور انسانی حقوق کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے اس قیمتی ایوارڈ سے نوازا۔ یہ ایوارڈ انسانی حقوق کے ان محافظین کی ان تھک محنت کا اعتراف ہے جو خطرے سے دوچار ہیں‘۔

بقول اُن کے، بنگلہ دیش کی عوام نے آزادی کی جنگ کا آغاز 1971ء سے کیا، تاکہ ایک جمہوری ملک قائم کیا جا سکے، جس کی بنیاد مساوات، انسانی توقیر اور سماجی انصاف پر ہو۔ ان کے یہ خواب ادھورے رہ گئے، کیونکہ اب انہیں غیر قانونی قتل و غارت اور تشدد اور زیر ِ حراست بدسلوکی جیسے مسائل کا سامنا ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ، ’انسانی حقوق کے محافظین پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں اور میڈیا کی آزادی اور تعلق کو گھٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایوارڈ میرے ملک میں ان خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا اور انسانی حقوق کے محافظین اور ’اودھیکر‘ سے وابستہ ستم رسیدہ خاندانوں کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ انسانی حقوق، سماجی انصاف اور جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں‘۔