آسڑیلوی وزیر اعظم کے ساتھ صدر ٹرمپ کی سخت فون کال

بدھ کے روز جب نامہ نگاروں نے مسٹر مالکم سے اس گفتگو کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ مسٹر ٹرمپ کے ساتھ اپنی گفتگو کو ظاہر نہیں کریں گے۔

واشنگٹن پوسٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور آسٹریلیا کے وزیر أعظم مالکم ترن بل کے درمیان ایک تند وسخت فون کال کی خبر دی ہے ۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں راہنماؤں نے آسٹریلیا کے ساحل کے قریب حراستی مراکز میں قیدایک ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں کو امریکہ میں از سر نو آباد کرنے سے متعلق اس معاہدے پرسخت الفاظ میں گفتگو کی جس پر أوباما انتظامیہ نے دستخط کیے تھے ۔

آسٹریلوٰی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وزیر أعظم مالکم ترن بل اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اختتام ہفتہ ایک سخت گفتگو ہوئی جس کا دورانیہ اس سے زیادہ مختصر تھا جتنا کہ توقع تھی۔

اس خبر کے سامنے آنے کے بعد جمعرات کےروز آسٹریلوٰی وزیر أعظم مالکم ٹرنبل نے کہا کہ امریکی صدرپناہ گزینوں کے اس گروپ کی از سر نو آباد کاری کے ایک معاہدے پر عمل درآمد سے وابستہ ہیں جنہیں آسٹریلیاپہنچنے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے وہ رپورٹ دیکھی ہے اور میں اس گفتگو پر تبصرہ نہیں کروں گا اور صرف یہ ہی کہوں گا کہ گفتگو کے دوران جیسا کہ آپ جانتے ہیں اور جیسا کہ صدر کے سرکاری ترجمان اور وہائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاہدے کو جاری رکھیں گے اور ہم نے پناہ گزینوں کی از سر نو آباد کاری سے متعلق أوباما انتظامیہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا وہ اس کا احترام کریں گے۔

واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی ہے کہ مسٹر ٹرمپ نے آسٹریلوٰی لیڈر پر بوسٹن پر اگلے بمبار کو بر آمد کرنے کی کوشش کا إلزام عائد کیا اور یہ کہ امریکی صدر نے کہا کہ یہ ٹیلی فون کال عالمی راہنماؤں سے ان کی اب تک کی فون کالز میں سے بد ترین کال تھی۔

واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی کہ مسٹر ٹرمپ نے ٹرنبل کو بتایا کہ وہ معاہدہ کبھی بھی کیا جانے والا بد ترین معاہدہ ہے ۔

مسٹر ٹرمپ نے بدھ کی رات ٹوئیٹر پر اس معاہدے پر مزید تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ کیا آپ اس پر یقین کریں گے ۔ أوباما انتظامیہ آسٹریلیا سے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو لینے پر تیار ہو گئی۔ میں اس ڈمب ڈیل کاجائزہ لوں گا۔

صدر پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخلے کی معطلي پر ایک ایکزیکٹیو آرڈر جاری کر چکے ہیں لیکن اس میں یہ استثنا شامل ہے کہ کسی شخص کو امریکہ داخل کرتے ہوئے امریکہ کا رویہ پہلے سے موجود ایک بین الاقوامی معاہدے کے مطابق ہو گا۔

امریکہ نے کین بیرا کے ساتھ پناہ گزینوں سے متعلق وہ معاہدہ گزشتہ نومبر میں کیا تھا۔ وہ آسٹریلیا کے جزیرے نورو کے ساحل کے قریب کیمپوں اور پاپوا نیو گنی کے ایک اور جزیرے کے قریب واقع کیمپ سے لگ بھگ ایک ہزار دو سو پچاس پناہ گزینوں کو اس کے بعد امریکہ میں از سر نو آبادکاری کر سکتا ہے جب وہ امریکی جانچ پرکھ پر پورے اتر جائیں ۔

ان میں سے بہت سوں کا تعلق ایران أفغانستان اور پاکستان سے ہے ۔ وہائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ان لگ بھگ بارہ سو پناہ گزینوں کی ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے قبل سخت جانچ پڑتال ہو گی ۔

بدھ کے روز جب نامہ نگاروں نے مسٹر مالکم سے اس گفتگو کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ مسٹر ٹرمپ کے ساتھ اپنی گفتگو کو ظاہر نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے اور امریکی صدر کے درمیان ہونے والی گفتگو پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا اور صرف اتنا ہی کہوں گاجتنا کہ ہم نے عوامی طور پر کہا ہے ۔اور آپ یقینی طور پر اس کی وجوہات سمجھ سکتے ہیں۔ میں آپ کی دلچسپی کو سراہتا ہوں لیکن بہتر یہ ہوتا ہے کہ ایسی بات چیت کو خوشگوار، دوستانہ اور نجی طریقے سے انجام دیا جائے ۔ آپ ان کے بارے میں رپورٹس دیکھ لیں گے ۔ میں اس میں اور کچھ اضافہ نہیں کروں گا۔

پناہ گزینوں کی از سر نو آباد کاری پر إبهام پہلے ہی آسٹریلیا کے ساحل پر جانچ پڑتال کے مراکز میں موجود تارکین وطن کے لیے پریشانی کی وجہ بن چکا ہے ۔ گذشتہ سال ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کی نئے سرے سے جانچ پرکھ ہو گی اور اب انہیں معاہدے کے ختم ہونے کے خدشات دکھائی دے رہے ہیں ۔

کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کو یا تو آسٹریلیوی میرین کے گشت پر مامور عملے نے واپس یا انہیں جنوبی پیسیفک کے کیمپوں میں بھیج دیا، جہاں ان کے کاغذات کی جانچ پرکھ ہو رہی ہے۔ کینبرا اپنے ساحلی کیمپوں میں موجود کسی بھی زیر حراست فرد کو آسٹریلیا میں از سر نو آباد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر رہا ہے۔ عہدے داروں نے کہا ہے کہ یہ پالیسی ایک رکاوٹ ہے اور اس سے پناہ کے کسی بھی دوسرے متلاشی کو سمندر کے راستے آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے روکے گی ۔ ناقدین بار بار کہہ چکے ہیں کہ ان کیمپوں کے اند رحالات انتہائی غیر انسانی ہیں ۔