امریکہ اور طالبان امن معاہدے کے قریب، دستخط کی تقریب دوحہ میں ہوگی

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے حتمی مسودے کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔ (فائل فوٹو)

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان امن مذاکرات کے مسلسل چھٹے روز امریکہ اور طالبان کے درمیان رات گئے تک بات چیت کا عمل جاری رہا۔

’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کے نمائندے کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے حتمی مسودے کو آخری شکل دی جا رہی ہے۔

نمائندے، ایوب خاورین نے بتایا ہے کہ امن مذاکرات بدھ کو مقامی وقت کے مطابق 11 بجے دوبارہ شروع ہوں گے اور بدھ کو ہی امریکہ کے اعلیٰ مصالحت کار زلمے خلیل زاد کابل روانہ ہو جائیں گے۔

ذرائع کے حوالے سے، وائس آف امریکہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کی تاریخ کا اعلان بہت جلد ہوگا اور اس حوالے سے تقریب دوحہ میں منعقد ہوگی۔

ذرائع کے مطابق متوقع طور پر اس تقریب میں قطر کے امیر شرکت کریں گے، جب کہ افغانستان کے تمام ہمسایہ ملکوں کے وزرائے خارجہ کو مدعو کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد اور طالبان کے 16 ارکان پر مشتمل وفد کے درمیان مذاکرات کا یہ نواں دور ہے۔

اس سے قبل افغانستان کے ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ بات چیت کے موجودہ دور کے دوران افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا 15 سے 20 ماہ میں مکمل کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے اور اس سمجھوتے پر طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے ڈپٹی لیڈر ملا برادر دستخط کریں گے۔ تاہم آزاد ذرائع سے ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کے بعد افغانستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بھی مذاکرات ہوں گے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان ٘مذاکرات کے آٹھ دور ہو چکے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بہت جلد فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔