لیبیا کے شدت پسندوں کے خلاف مصر، امارات کی کارروائی: رپورٹ

بن غازی

’نیو یارک ٹائمز‘ کی خبر کے مطابق، امریکی عہدے داروں نے بتایا ہے کہ اِن فضائی ٕحملوں کے لیے مصر نے اڈے فراہم کیے تھے، جب کہ متحدہ عرب امارات نے طیارے اور پائلٹ؛ جب کہ اِن حملوں کے بارے میں اِن حکومتوں نے کوئی بیان جاری نہیں کیا

اعلیٰ امریکی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ مصر اور متحدہ عرب امارات نے گذشتہ ہفتے لیبیا کے دارالحکومت میں شدت پسندوں کے خلاف دو بار فضائی حملے کیے۔

امریکی حکام نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ یہ اقدام امریکہ لے لیے حیرت انگیز امر تھا، جس کے باعث امریکہ، مصر اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے۔


امریکی عہدے داروں نے بتایا ہے کہ اِن فضائی ٕحملوں کے لیے مصر نے اڈے فراہم کیے تھے، جب کہ متحدہ عرب امارات نے طیارے اور پائلٹ۔ اِن حملوں کے بارے مین اِن حکومتوں نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

اخبار ’دِی نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق، پہلی فضائی کارروائی ایک ہفتہ قبل طرابلس میں کی گئی جس میں اسلام پسندوں سے وابستگی رکھنے والے شدت پسندوں کی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا، جن میں اسلحے کا ڈپو شامل ہے، جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔


دوسرا حملہ طرابلس میں شدت پسندوں کے کنٹرول والے راکٹ لانچروں، فوجی گاڑیوں اور ساز و سامان کے ایک ذخیرے پر کیا گیا، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

دوسرے حملے کے بعد کچھ ہی گھنٹوں کے اندر اندر، شدت پسندوں نے طرابلس ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا۔

پیر کے روز امریکہ اور چوٹی کے چار یورپی اتحادیوں نے لیبیا میں بیرونی مداخلت کے خلاف انتباہ جاری کیا۔

امریکی محکمہٴخارجہ کے ساتھ ساتھ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکوں کی کارروائی کے نتیجے میں لیبیا کی معاشرتی تقسیم میں شدت آتی ہے اور یہ جمہوریت کے لیے نقصاندہ ہے۔


اِن پانچوں اتحادیوں نے ملک کے اہم شہروں میں جاری لڑائی کی سختی سے مذمت کی ہے، جن میں طرابلس اور بن غازی شامل ہیں، خاص طور پر اُن کے رہائشی علاقوں میں، اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی پر رضامند ہوں۔

سنہ 2011سے، جب مطلق العنان معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹایا گیا، لیبیا میں کشیدگی جاری ہے۔