انٹرنیٹ کی آزادی کو ’’سخت خطرات‘‘ لاحق: فریڈم ہاؤس رپورٹ

فائل

مسلسل چھ سال سے، عالمی سطح پر انٹرنیٹ اتنا آزاد نہیں رہا، جب کہ دنیا بھر کے ممالک نے آزادیِ اظہار پر قدغن لگانے، ’انکرپشن ٹیکنالوجی‘ پر بندش لاگو کرنے اور قومی اہل کاروں کی جانب سے ناقابلِ قبول گردانے جانے والے مواد کو پوسٹ اور شیئرنگ کرنے والے صارفین کو سزائیں دینے کے حربے دوگنا ہوچکے ہیں۔

یہ بات سالانہ ’فریڈم آن دی نیٹ‘ رپورٹ میں کہی گئی ہے، جس کی چند تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ یہ رپورٹ واشنگٹن ڈی سی میں قائم، جمہوریت نواز تھنک ٹینک، ’فریڈم ہاؤس‘ نے مرتب کی ہے، جس کے تحقیق کاروں کا اندازہ ہے کہ دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے دو تہائی صارفین ایسے ملکوں میں مقیم ہیں جہاں آن لائن سرگرمی پر سخت قدغن عائد ہے؛ جہاں پر اُن کی جانب سے پوسٹ کردہ اطلاعات پر سخت جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، جن میں قید کیا جانا اور کوڑے مارنے تک کی سزائیں شامل ہیں۔

پینسٹھ ملکوں میں کرائے گئے رائے عامہ کے اس جائزے کی بنیاد پر یہ طے کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی آزادی کے حوالے سے چین، ایران، شام اور ایتھیوپیا میں سب سے زیادہ زیادتی برتی جاتی ہے؛ جن کے بعد ازبکستان، کیوبا، ویتنام اور سعودی عرب کا نام آتا ہے۔ کچھ ممالک، جن میں شمالی کوریا شامل ہے، جن کا کھلے عام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک طویل ریکارڑ ہے، اُنھیں اس مطالعے میں شامل نہیں کیا گیا۔

اِس ضمن میں، جن ملکوں میں سب سے زیادہ زوال آیا وہ یوگنڈا، بنگلہ دیش اور کمبوڈیا ہیں۔ محض 14 ملک ایسے ہیں جن میں کسی حد تک بہتری دیکھی گئی۔ صرف تین ملک ایسے ہیں جن میں دنیا کے آن لائن صارفین کا اندازاً 40 فی صد بستا ہے، جو چین، بھارت اور امریکہ ہیں۔

سرکاری سختیاں

ادریان شہباز ’فریڈم آن دی نیٹ‘ کے تحقیقی منتظم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کوئی بھی ملک مثالی نہیں۔ ہم مسائل کا تجزیہ کرتے وقت انتہائی مختصر لب لباب پر انحصار کرتے ہیں، جب کہ ان مسائل کا تمام ملکوں کو سامنا ہے، جو یہ چاہتے بھی ہوں کہ انٹرنیٹ کو آزاد یا کھلا رکھا جائے‘‘۔

شہباز نے کہا ہے کہ بہترین کارکردگی دکھانے والے ملکوں میں جو عوامل مشترک ہیں وہ ہیں آزاد اور کھلے انٹرنیٹ پر توجہ دینا، جہاں انٹرنیٹ کا وسیع تر استعمال ہوتا ہے، اور جہاں پر آزادیِ اظہار اور ’پرائیویسی‘ کا ٹھوس حد تک تحفظ ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔

ایک حد تک چین میں نئے ’سائبر سکیورٹی‘ کے قوانین اس کے ذمے دار ہیں کہ خلاف ورزیوں کے پیمانے پر اس ملک کو دنیا کی بدترین سطح پر دیکھا جا رہا ہے۔ گذشتہ کئی برس سے، چین نے آن لائن ’’افواہیں پھیلانے‘‘ یا ’’قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے‘‘ کو قابل تعزیر جرم قرار دیا ہے؛ اور ’وی پی این‘ نظام کے ذریعے بندش زدہ ہزاروں ویب سائٹس تک رسائی اور استعمال کے خلاف متعدد سخت کارروائیاں کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں حکومتیں مختلف قسم کے مواد کو قابل احتساب بنا رہے ہیں، جن کا انحصار ترجیحات پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر، تھائی لینڈ میں تھائی بادشاہ کے خلاف سخت سزائیں دی جاتی ہیں، جہاں بادشاہت کی شان میں گستاخی دکھانے کو سخت ترین قابل سزا جرم گردانا جاتا ہے، جب کہ بہت سارے افریقی اور مشرق وسطیٰ کے ملک آن لائن مواد جس میں حکام پر نکتہ چینی کی جاتی ہے یا ’ایل جی بی ٹی‘ کے معاملات کر زیر بحث لایا جاتا ہے، اُس پر اعتراض کرتے ہین۔

اِسی طرح، مزاح یا خوش مزاجی پر مبنی پوسٹوں کو بھی چھان بین کی نئی سطح سے پرکھا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، مصر کے صدر عبدلفتح السیسی کی ’مکی ماؤس‘ کے کان والی تصاویر، اور ایسے فوٹو جن میں اُن کا موازنہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے کیا جاتا ہے؛ اور ’لارڈ آف دی رنگز‘ مووی میں ’گولم‘ کے کردار کو نمایاں کرنے کا معاملہ؛ ایسی تصاویر بنانے والے کو مشکلات کا سامنا کتنا پڑتا ہے، جب کہ جنھوں نے اِنھیں ’شیئر‘ کیا اُنھیں بھی قید کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔