گوادر میں پانی کی شدید قلت، ٹینکر 18 ہزار روپے میں فروخت ہونے لگا

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کا ایک منظر۔ فائل فوٹو

ستارکاکڑ

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پانی کی قلت بدستور برقرار ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جارہے ہیں ، جس میں فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور گوادر تر قیاتی ادارے (جی ڈی اے) اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے سمندر کا پانی کو صاف کرنے کے تین پلانٹ شامل ہیں ۔

گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ایک ڈائریکٹر نادر بلوچ نے وائس اف امر یکہ کو بتایا کہ گوادر پورٹ اٹھارٹی (جی ڈی اے) نے اپنی ضروريات پوری کرنے کے لئے سمندر کا پانی صاف کرنے کا ایک پلانٹ لگا لیا ہے جس سے جی ڈی اے کی ضروريات اب پوری ہو رہی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں پانی کی قلت کے پیش نظر فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن نے بھی دُبئی کی ایک نجی کمپنی سے معاہدہ کر لیاہے جس نے یہاں سمندر کے کھارے پانی کو صاف کرنے کا ایک پلانٹ لگا دیا ہے ۔ پلانٹ کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، اور چھ ماہ میں پلانٹ سے پانی کی فراہمی شروع ہوجائے گی۔ ابتدا میں یہ پلانٹ شہر کو روزانہ کی بنیاد پر 10 لاکھ گیلن پانی فراہم کر ے گا، بعد میں کمپنی اس پلانٹ کی استعداد بڑھا کر چالیس لاکھ گیلن روزانہ کر سکے گی۔

نادر بلوچ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے بھی گوادر شہر میں سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے لئے 50 لاکھ گیلن کی فراہمی سے متعلق بنیاد ی کام مکمل کر لیا ہے جس کا تعمیراتی کام جلد شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت گوادر شہر میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے دیگر اقدامات بھی کر رہی ہے جن میں گوادر کے قریبی علاقے سووڈ (Swad) میں با رش کا پانی ذخیرہ ہ کرنے کے لئے ڈیموں کی تعمیر شامل ہے۔ ان میں ایک ڈیم سووڈ مکمل ہو چکا ہے اب اس ڈیم سے گوادر شہر کو پانی فراہم کرنے کے لئے پائپ لائن بچھائی جارہی ہے ۔ بارش کے بعد ڈیم میں جمع ہونے والے پانی سے ساحلی شہر کو 50 لاکھ گیلن پانی روزانہ کی بنیاد پر فراہم کیا جا سکے گا ۔

نا در بلوچ نے تسلیم کیا کہ فی الحال اس ساحلی شہر میں پانی کی قلت بدستور جاری ہے اور صوبائی حکومت کا ایک محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئر نگ گوادر سے 155کلو میٹردور شاد ی کور اور آکڑہ ڈیم سے شہر یوں کو پانی فراہم کررہا ہے ۔

دوسری طرف گوادر کے ایک شہر ی اللہ بخش نے وائس اف امریکہ کو بتایا کہ شہر میں اس وقت بھی پانی کی قلت جاری ہے شہری شادی کور سے ٹینکرز کے ذریعے لا یا جانے والا پانی خر ید نے پر مجبور ہیں۔ اس وقت شہر میں60 ہزار گیلن کا ٹینکر 40000 اور 16000 ہزار والا ٹینکر پندرہ ہزار روپے تک فروخت ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکام کی طرف سے گوادر میں سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے لئے پلانٹ لگانے کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن ابھی تک کسی پلانٹ میں پانی صاف کرنے کا کام شروع نہیں کیا گیا۔

گوادر کے مقامی صحافی ابراہیم بلو چ نے وی او اے کو بتایا کہ گوادر میں سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے لئے تین پلانٹس کی مشینری منگواکر نصب بھی کر لی گئی ہے لیکن ابھی کسی بھی پلانٹ نے کام شروع نہیں کیا ۔ پانی کی قلت بدستور برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرمی کے شروع ہونے کے ساتھ ہی یہ مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اب تو شہر کو ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرنے والے ٹرانسپورٹروں کے دوگروپوں میں سے ایک نے مقامی حکام کی طرف سے گزشتہ چھ ماہ کے بقایاجات کی ادائیگی نہ کرنے پر ہڑتال گزشتہ تین دنوں سے شروع کر رکھی ہے جس کی وجہ سے صورت حال مزید بگڑتی جارہی ہے

گوادر شہر اور آس پاس کے دیہاتوں کی آبادی لگ بھگ تین لاکھ کے قریب ہے اور شہر اور اس کے قریبی علاقوں کی روزانہ کی بنیاد پرضرورت 63 لاکھ گیلن ہے جبکہ شہر کو اس وقت تقریباً 18 لاکھ گیلن پانی مل رہا ہے جو اس ساحلی شہر سے 155 کلو میٹر دور بنائے گئے ڈیموں سے ٹینکر وں کے ذریعے لایا جا رہا ہے ۔اس ساحلی شہر اور نواحی علاقوں میں زیر زمین پانی میں نمک کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث یہ پینے کے قابل نہیں۔

بلوچستان کے اس ساحلی شہر کو اربوں ڈالر مالیت کے پاک چین اقتصادی راہداری اور چین کے ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کا مر کز قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس شہر کے شہریوں کو پینے کا پانی بھی تاحال میسر نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ اربوں ڈالر ز کی سر مایہ کاری سے بندرگاہ کی تعمیر کا کام اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر مال بردار جہاز آتے اور یہاں سے سامان لے جاتے ہیں۔