پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے پہلے 100 دن کیسے رہے؟

عمران خان عام انتخابات کے دوران اسلام آباد میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ 25 جولائی 2018

پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کے پہلے 100 دن کی کارگردگی کو اس کے حامی قابل تعریف اور مخالفین مایوس کن قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف حکومت کے 100 دن مکمل ہونے جارہے ہیں۔ خارجہ پالیسی محاذ پر نئی حکومت کے لیے یہ خاصا مشکل دور رہا۔ امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار رہے۔ کبھی بھارتی بیانات تو کبھی ٹرمپ کے ٹویٹس، افغانستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ملائشیا کے دورے اور کبھی چین کے ساتھ محبتیں، پاکستان کا دفترخارجہ اس تمام صورت حال سے نبردآزما ہے۔

عمران خان کے پہلے سو دن وزارت خارجہ کے حوالے سے اس لحاظ سے مثبت رہے کہ اس وزارت کو ایک مکمل اور بااختیار وزیرخارجہ ملا ہوا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے انتخابات میں کامیابی پر 26 جولائی کی تقریر میں اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال بیان کردیے تھے جس میں امریکہ کے ساتھ ’ دو طرفہ مفید’ متوازن تعلقات کا اعلان کیا، بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات کی بات کی، خطے میں انسداد غربت’ تجارتی حجم بڑھانے کی تجویز دی۔ مسئلہ کشمیر کے حل، اور ایک قدم کے بدلے دو قدم بڑھانے اور دوستی کی پیشکش کی۔

لیکن دفترخارجہ کی کوششوں کے باوجود بھارت کی جانب سے کوئی قابل ذکر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر بھرپور تنقید کی جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنی پالیسی بنانے کا اعلان کیا جس کی وجہ سے تعلقات میں فی الحال جمود ہے۔

تجزیہ کار نجم رفیق کہتے ہیں کہ پاکستان کے امریکہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات اس دور میں خراب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں ہی اس بداعتمادی کا آغاز ہوگیا تھا، جس کے بعد اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ بھارت کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑ رہے ہیں، لیکن اس کی ذمہ داری پاکستان تحریک انصاف کی سو دن کی حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔

پاکستان نے مشکل اقتصادی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب، امارات اور چین کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ سعودی عرب میں کامیابی ملی جبکہ چین اور امارات کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ چین کی طرف سے سی پیک منصوبوں پر تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے خدشات ظاہر کیے جانے کے معاملے پر بھی چین کو تحفظات ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان کا چین سے اقتصادی پیکج اب تک حتمہ طور پر طے نہیں ہو سکا۔

افغانستان کے معاملے میں تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے۔ پاکستانی وزیرخارجہ نے اگرچہ اپنا پہلا دورہ افغانستان کا ہی کیا لیکن بداعتمادی کی فضا ابھی تک کم نہیں ہو سکی ہے۔

نجم رفیق کہتے ہیں کہ سو دن کی حکومت میں خارجہ پالیسی کا تعین تو ہو سکتا ہے لیکن عمل درآمد کے لیے یہ وقت بہت کم ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو وقت دینا ہو گا۔ عمران خان حکومت نے خارجہ پالیسی کی سمت کا تعین کر دیا ہے اور امید ہے کہ سفارتی محاذ پر جلد صورت حال بہتر ہو گی لیکن حکومت سے صرف سو دن کے اندر بین الاقوامی سطح کے مسائل حل ہونے کی توقع کرنا درست نہیں ہو گا۔

پاکستان تحریک انصاف کی سو دن کی کارکردگی کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت بری طرح سے ناکام رہی ہے اور اس کا کوئی وژن نہیں ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سعید غنی نے کہا کہ وزراء کے اترے ہوئے چہرے 100دن کی حکومت کی کارکردگی بیان کر رہے ہیں۔ عمران حکومت کی نہ کوئی پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی سمت۔ جو وزیراعظم ملک کو مزید قرضوں میں جکڑنے پر خوشیاں منا رہے ہوں ان کے وژن کو کیا نام دیا جائے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سی پیک کے خلاف حکومتی بیانات پر بھی شدید ردعمل دیا گیا تھا جس میں مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت چین جیسے دوست کو ناراض کر رہی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے سفارتی محاز پر اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور حال ہی میں بھارت کے سخت رویہ کے باوجود کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ ان پالیسیسز سے پاکستان کو فائدہ ہو گا یا نہیں اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

پاکستان کا عالمی سطح پر سب سے اہم مسئلہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کی اصطلاح ہے جس کی وجہ سے عالمی برادری میں اکثر موقعوں پر پاکستان کے موقف کو درست نہیں سمجھا جاتا۔