رسائی کے لنکس

logo-print

کیا پاکستانی حکومت کی رٹ کمزور پڑ رہی ہے؟


عدلیہ نے بھی تحریک لبیک (ٹی ایل وائے آر) کے فتوے کے سلسلے میں خاموشی اختیار کر لی اور کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھایا

پاکستان میں انتظامیہ، پارلیمان، عدلیہ اور فوج کو اہم ترین ریاستی ستون قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم، بعض اوقات ان میں اختلافات سے لیکر محاذ آرائی تک کی صورت حال سامنے آتی رہی ہے۔ بیشتر تجزیہ کاروں کے نزدیک زمینی حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ روایتی طور پر فوج ہی ملک کا سب سے طاقتور ادارہ رہا ہے۔

اگر پاکستان کی گزشتہ 10 پندرہ سال کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کا اندازہ لگانا ہرگز مشکل نہیں کہ ملک کا سب سے طاقتور ادارہ متعدد موقعوں پر اپنا برسر عام دفاع کرتا بھی دکھائی دیا ہے۔ اس سلسلے میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ایسے بیانات بھی جاری کئے گئے جن کا مقصد فوج کی طرف سے اپنی صفائی پیش کرنا تھا۔

دوسری جانب عدلیہ بھی گزشتہ دس بارہ سال کے دوران معمول سے زیادہ متحرک دکھائی دی جب اُس نے ’سوؤ موٹو‘ کے اختیار کا بے دریغ استعمال کیا اور کئی ایک ایسے معاملات پر براہ راست فعال کردار ادا کرنا شروع کیا جو روایتی طور پر عدلیہ کے بجائے حکومت کے دائرہ اختیار میں رہے ہیں۔

آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ کی طرف سے بریت کے نتیجے میں تحریک لبیک نے پورے ملک کے نظام کا پہیہ جام کر کے رکھ دیا اور حکومت کی طرف سے سخت بیانات کے باوجود جس انداز میں ٹی ایل وائے آر کے ساتھ تحریری سمجھوتا کیا گیا، بہت سے تجزیہ کار اسے حکومت کی رٹ کی مکمل ناکامی سے تعبیر کرتے ہیں۔

تحریکِ لبیک اور دیگر تنظیموں کی جانب سے فوج کو بغاوت پر اکسانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور اس سلسلے میں حکومت وقت کا مؤثر کارروائی نہ کرنے کے اقدام کو تجزیہ کار ریاست کی کمزوری کا مظہر قرار دیتے ہیں۔

آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے الزامات سے بری کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جب تحریکِ لبیک نے اپنے دھرنوں کے دوران اس کیس پر فیصلہ دینے والے سپریم کورٹ کے تینوں ججوں کو واجب القتل قرار دے دیا تو خود سپریم کورٹ کی طرف سے بھی بظاہر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تجزیہ کاروں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اکثر توہین عدالت کے الزام میں سزائیں سنائی ہیں۔ لہذا تحریکِ لبیک کے اس اقدام پر سپریم کورٹ کی طرف سے کوئی نوٹس نہ لیا جانا ناقابل فہم ہے۔

ٹی ایل پی کی طرف سے ملک بھر کے نظام کا پہیہ جام کرنے کا واقعہ ملکی تاریخ کا واحد واقعہ نہیں ہے۔ سب سے پہلے اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ نے اب سے کوئی تین دہائیاں قبل مہارت حاصل کرتے ہوئے بارہا پاکستان کے کمرشل دارالحکومت کراچی کو یرغمال بنایا اور حکومت وقت اس کا کچھ بگاڑ نہ سکی۔ یوں ایم کیو ایم کا کراچی پر مکمل کنٹرول رہا۔

تحریکِ لبیک نے بھی سڑکوں کے احتجاج کو استعمال کرتے ہوئے سب سے پہلے فیض آباد میں دھرنے کے دوران اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان آمدورفت کو مفلوج کر دیا اور پھر ملک کے دیگر علاقوں میں بھی یہی انداز اپنایا۔ اس دوران لوگوں کی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا اور حکومت یہ سب دیکھتی رہی اور یہ دھرنے اُس وقت ختم ہوئے جب حکومت نے تحریکِ لبیک کے مطالبات تسلیم کر لئے۔

ان تمام واقعات سے کچھ نئی باتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ عدلیہ کی طرف سے توہین عدالت کے تحت لوگوں کو سزا دینا ہمیشہ ممکن نہیں رہا۔ اسی طرح فوج اور انتظامیہ کیلئے بھی اپنا وقار برقرا رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

یوں سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام صورت حال مجموعی طور پر ریاست کی کمزوری کی غمازی کرتی ہے؟

پاکستان سے معروف تجزیہ کار، ماہر قانون اور بیکن ہاؤس یونیورسٹی کی سابق پروفیسر یاسمین علی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ پارلیمان اور حکومت اپنی ذمہ داریاں بخوبی پوری کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو وجود میں آئے ابھی دو ہی ماہ ہوئے ہیں اور اقتدار میں آتے ہی اسے کئی ایک مشکل چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا، جس میں ایک مذہبی جماعت تحریکِ لبیک کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ملک بھر کو یرغمال بنا لینا بھی شامل ہے۔

یاسمین علی کا کہنا تھا کہ اگرچہ تحریکِ لبیک کے ساتھ تحریری سمجھوتے کے نتیجے میں احتجاج کا خاتمہ ایک خوش آئیند اقدام تھا۔ تاہم یہ اُمید کی جا رہی تھی کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد حکومت فوری طور پر ایسے اقدامات اختیار کرے گی جن سے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے بارے میں پیش رفت ہو سکتی۔ لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے اور اس صورت حال سے حکومت کی کمزوری کا اشارہ ملتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ عدلیہ نے بھی تحریکِ لبیک کے فتوے کے سلسلے میں خاموشی اختیار کر لی اور کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھایا جس سے مستقبل میں ایسی صورت حال کا سامنا نہ ہو۔ یاسمین علی کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں حکومت کو خود اپنے تئیں یا فوج کے ساتھ مل کر ایسے فیصلے کرنے چاہئیں تھے جن کے تحت آئیندہ کوئی مذہبی جماعت سپریم کورٹ کے کسی فیصلے سے ناخوش ہو کر یہی راستہ اختیار نہ کر پائے۔

وہ کہتی ہیں کہ کچھ عرصے سے فوج کی جانب سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھانا چاہتی جس سے ملک میں جمہوریت کو کوئی خطرہ ہو۔ یوں، ان حالات میں سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ہے۔ تاہم، چونکہ حکومت کو اقتدار سنبھالے ابھی دو ماہ ہی ہوئے ہیں اس لئے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ کیا اس کی رٹ کمزور پڑ رہی ہے اور یہ اپنا فرض نبھانے میں ناکام ہو رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG